خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 241

خطبات محمود ۲۴۱ سال ۱۹۳۸ شروع کر دیتی ہیں تو گھبراتی نہیں اور جو تکلیف بھی انہیں برداشت کرنی پڑے اُسے خوشی سے برداشت کرتی ہیں۔مگر یہ نتیجہ ہے اُن کی آزادی اور حریت کا اور ہمارے آدمیوں کی سستی اور غفلت نتیجہ ہے ان کی غلام ذہنیت کا۔اگر یہ ذہنیت مٹ جاتی اور وہ سمجھ لیتے کہ ترقی کا صرف ایک ہی ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ اور بھی بیسیوں ذرائع خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہوئے ہیں تو وہ سستی اور غفلت میں مبتلا ہونے کی بجائے جد و جہد کرتے اور ایثار اور قربانی سے کام لیتے اور پھر دیکھتے کہ اس کے کیسے خوشگوار نتائج نکلتے ہیں۔جیسے ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو یہ آواز سنتے ہی کہ آؤ اور خدمتِ دین کیلئے اپنی زندگی وقف کر دو نہایت خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی وقف کر دیتا اور غیرممالک میں نکل جاتا ہے۔چنانچہ بعض تو بغیر کسی سرمایہ کے غیر ممالک میں کام کر رہے اور نہایت اچھا نمونہ دکھا رہے ہیں۔تو مجالس خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ نو جوانوں کے سامنے وہ مقاصد رکھے جائیں جن کے بغیر ان میں ارتقائی روح پیدا نہیں ہوسکتی اور جن کے بغیر جماعت کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس وقت ایک ذہنی آزادی عطا کی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ہم میں سے ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اُس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن بہر حال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا ) ہمیں کی تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔اب یہ خیال ایک منٹ کیلئے بھی کسی بچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کرسکتا۔جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ اُن سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت ہی عجز اور انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔ہم انگریزی قوم کی کو عارضی طور پر مسلمانوں پر غالب دیکھتے ہیں مگر مستقل طور پر اسے اسلام کا غلام بھی دیکھ کچ رہے ہیں۔ہماری مثال اس وقت ایسی ہی ہے جیسے کوئی بڑا آدمی جب کسی چھوٹے آدمی کے ہاں بطور مہمان جاتا ہے تو کچھ عرصہ کیلئے وہ اُس کے قوانین کا پابند ہوتا ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ خواہ کوئی کتنا بڑا آدمی ہو جب کسی دوسری جگہ جائے تو وہاں کی