خطبات محمود (جلد 19) — Page 91
خطبات محمود ۹۱ سال ۱۹۳۸ء بنائے جاتے ہیں ان کے ذریعہ انسان اندر داخل ہو جائے لیکن اگر کوئی شخص کسی کے گھر دروازہ میں سے داخل ہونے کی بجائے سیندھ لگانا شروع کر دے اور کہے کہ میں سیندھ لگا کر اندر داخل ہوں گا تو گھر والے بھی شور مچائیں گے اور ہمسائے بھی شور مچائیں گے اور پولیس اسے گرفتار کر کے لے جائے گی۔یا فرض کرو وہ اپنے گھر میں ہی دروازہ میں سے اندر داخل ہونے کی بجائے دیوار پھاند کر آجاتا ہے تو گو اس پر چوری کا الزام نہیں لگے گا اور نہ اسے دخلِ بے جا کا کوئی شخص مرتکب قرار دے گا مگر ہر دیکھنے والا اسے احمق اور بیوقوف کہے گا اور اسے عقل سے کی بالکل کو را قرار دے گا۔تو جو چیز اپنی ہوتی ہے اور کسی اور کا اس میں دخل نہیں ہوتا اس میں بھی انسان اگر صحیح طریق کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے تو ہر شخص یا تو اسے احمق اور بیوقوف کہے گا یا بھانڈ اور مسخرہ قرار دے گا۔مثلاً پانی پینے کا طریق یہ ہے کہ گلاس میں پانی بھرا جائے اور منہ لگا کر پی لیا جائے لیکن اگر کوئی شخص اس طرح پینے کی بجائے گتے کی طرح پانی کو زبان سے چاٹنے لگ جائے تو ہر شخص اسے ذلیل اور حقیر تصور کرے گا یا گلاس کے اوپر ہونٹ لگانے کی کی بجائے اگر وہ چاقو سے گلاس میں کسی اور جگہ سوراخ کرلے اور کہے کہ میں اس جگہ سے پانی پیوں گا یا پیندے میں سوراخ کرلے اور کہے کہ میں اوپر کی بجائے نیچے سے پانی پیوں گا تو کوئی اسے عظمند قرار نہیں دے گا بلکہ ہر شخص اسے احمق اور بیوقوف کہے گا۔انسان کا پاجامہ اور گر تہ اس کی اپنی ملکیت ہوتا ہے لیکن اگر وہ پاجامے کو گردن میں ڈال لے اور گرتے میں ٹانگیں ڈال دے تو کوئی نہیں کہے گا کہ چونکہ یہ اس کا اپنا گر تہ اور اپنا پاجامہ ہے اس لئے اس کا حق ہے کہ جس طرح جی چاہے استعمال کرے۔ہر شخص کہے گا کہ گوگر تہ اس کا ہے مگر لاتوں کیلئے نہیں اور گو پاجامہ بھی اسی کا ہے مگر گردن میں ڈالنے کیلئے نہیں اور اگر کوئی شخص گر تہ اور پاجامہ کو اپنی ملکیت کے گھمنڈ میں اُلٹا پہن لے یعنی گرتے کی جگہ پاجامہ اور پاجامے کی جگہ گر نہ تو ہر شخص کہے گا کہ یا تو یہ پاگل ہے یا بھانڈ اور مسخرہ ہے کہ یہ صیح طریقہ جو مقرر ہے وہ اختیار نہیں کرتا۔تو محض کسی چیز کا مالک ہونا تمہیں اس کے استعمال میں بالکل آزاد نہیں کر دیتا۔تم اپنے گھر میں دروازہ سے داخل ہونے کی بجائے سیندھ لگانے لگ جاؤ یا دیوار پھاند کر اندر داخل ہو جاؤ یا تم اپنی روٹی بجائے منہ میں ڈالنے کے ناک میں ڈالنے لگ جاؤ یا پانی بجائے سیدھی طرح کی