خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 92

خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۳۸ء پینے کے اسے گنتے کی طرح لق لق کر کے چاٹنے لگ جاؤ یا گلاس میں چاقو سے سوراخ کر کے یا اس کے پیندے کو تو ڑ کر وہاں منہ لگا کر پانی پینے لگ جاؤ۔تو کیا تم سمجھتے ہو کہ چونکہ یہ چیزیں تمہاری ہیں اس لئے ان میں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں۔بے شک یہ چیز میں تمہاری ہی ہوں گی مگر باوجود اس کے کہ گھر تمہارا ہوگا ، روٹی تمہاری ہوگی ، پانی تمہارا ہو گا، گلاس تمہارا ہوگا، پھر بھی اگر غلط طریق اختیار کرتے ہو تو ہر شخص کا حق ہے کہ تمہیں پاگل اور بیوقوف سمجھے گا جس طرح اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ ایسا کر رہا ہے تو تمہارا بھی حق ہے کہ اسے احمق قرار دو اور نہ صرف تمہارا یہ حق ہے بلکہ تم اس حق کو استعمال بھی کرو گے اور فوراً فیصلہ کر دو گے کہ یا تو یہ احمق ہے یا بھانڈ اور شرارتی ہے۔تو محض کسی چیز کو اپنا قرار دے کر اس کا غلط استعمال درست نہیں ہوتا کی اور جب چیز بھی اپنی نہ ہو تو اس کا غلط استعمال تو انسان کو اور زیادہ مجرم بنا دیتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی کو دیکھے کہ وہ ننگے پاؤں پھر رہا ہے اور اسے ہمدردی کے طور پر اپنا بوٹ یا جوتی دے دے تو اگر وہ شخص بوٹ میں اپنا پیر بھی ڈالے اور ساتھ ہی چند لکڑی کے ٹکڑے اور پتھر کے ٹکڑے بھی ڈال لے تو ہر دیکھنے والا اسے بیوقوف اور احسان فراموش قرار دے گا اور کہے گا یہ کیسی بیہودگی ہے کہ اس نے تو اپنا بوٹ اسے پہنے کیلئے دیا اور اس نے اس میں لکڑی کے ٹکڑے کی بھی رکھ لئے تا کہ وہ جلدی پھٹے۔پھر صرف دوسرے کی جوتی کو استعمال کرنے کا سوال نہیں۔اگر یہ اپنی جوتی بھی اسی طرح استعمال کرے گا تو بھی ہر دیکھنے والا اس پر ہنسے گا اور اسے احمق اور بیوقوف قرار دے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے کر تہ اور پاجامہ کا غلط استعمال کرتا ہے یعنی گرتے کی جگہ پاجامہ اور پاجامے کی جگہ گر تہ ڈال لیتا ہے۔تب بھی لوگ اسے بیوقوف کہیں گے اور اگر کسی دوسرے کے گرتے اور پاجامے کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے تو لوگ اسے احمق بھی کہیں گے اور ساتھ ہی شرارتی بھی کہیں گے کہ اس نے بجائے دوسرے کا احسان مند ہونے کے اس کا گر نہ پھاڑا اور اس کے پاجامے کا نقصان کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو چیزیں دی ہیں وہ گو بندوں کی نظر آتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہیں۔یہ آنکھیں جو ہم کو ملی ہیں ، یہ کان جو ہم کو ملے ہیں، یہ ہاتھ جو ہم کو ملے ہیں، یہ پاؤں جو ہم کو ملے ہیں۔اسی طرح وہ روپیہ، وہ علم ، وہ فہم ، وہ فراست اور وہ ذہن