خطبات محمود (جلد 19) — Page 816
خطبات محمود ۸۱۶ سال ۱۹۳۸ء۔اسے کم تنخواہ دے دی جائے۔سب کو یکساں گزارے ملیں گے خواہ کوئی ولایت کا پاس شدہ ہو یا کی یہاں کا۔ہاں گزارے میں زیادتی شادی ہونے پر یا بچے پیدا ہونے پر ہو سکے گی۔مثلاً اگر ایک ولایت کا پاس شدہ نو جوان بھی ہمارے پاس ہو گا تو ہم اسے پندرہ روپے ہی دیں گے اس کے مقابلہ میں اگر کوئی ایسا ہے جو ولایت کا پاس شدہ نہیں تو اسے بھی پندرہ روپے ہی ملیں گے۔ہاں اگر شادی ہو جائے اور پھر بچے پیدا ہونے لگ جائیں تو اس صورت میں اس گزارہ میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا رہے گا کیونکہ بچوں نے تو کھانا ہے مگر علم نے نہیں کھانا۔میں نے دیکھا ہے کہ اگر اس لحاظ سے تقسیم کی جائے تو دولت مند غریب ہو جاتے ہیں اور غریب دولت مند۔بعض لوگ صرف میاں بیوی ہوتے ہیں ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی لیکن وہ پچاس روپیہ ماہوار کما رہے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہوتا ہے اسکے آٹھ بچے ہوتے ہیں اور وہ سو روپیہ ماہوار کماتا ہے۔اب پچاس روپے والا یہ نہیں دیکھے گا کہ مجھے پچاس روپے ملتے ہیں اور ہم کھانے والے صرف دومیاں بیوی ہیں اور اسے گوسور و پیہ ملتے ہیں مگر اس کے گھر کھانے والے دس افراد ہیں بلکہ وہ پچاس اور سو کو دیکھ کر شور مچانے لگ جائے گا کہ غریبوں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں امیروں کو سب پوچھتے ہیں حالانکہ یہ پچاس روپے کما کر ۲۵ روپے خود رکھتا اور ۲۵ روپے کی اپنی بیوی کو دیتا ہے اورسور و پیہ کمانے والا ہر ایک کو دس دس روپے دیتا ہے بلکہ یہ ۲۵ روپے لے کر بھی اپنے آپ کو غریب کہتا ہے اور دوسرے کو باوجود دس روپیہ کی آمد کے امیر قرار دیتا ہے اور اسکی زبان یہ کہتے ہوئے گھس جاتی ہے کہ غریبوں کو کوئی نہیں پوچھتا امیروں کو ہی سب پوچھتے ہیں۔تو میں نے تحریک جدید میں یہ اصل رکھا ہے کہ علم پر گزارہ مقرر نہ کیا جائے بلکہ کھانے پینے والوں کی تعداد کو دیکھ کر گزارہ مقرر کیا جائے۔میں نے تحریک جدید کے ماتحت جو گزارے کے نئے اصول مقرر کئے ہیں وہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اسی اصل کے ماتحت ہیں۔میں نے ہدایت دے دی ہے کہ اگر کوئی مجرد ہو تو اسے کی اتنے روپے دیئے جائیں گے ، شادی ہو جائے تو اتنے اور بچے پیدا ہو جائیں تو فی بچہ اتنا الاؤنس بڑھایا جائے اور اگر کسی کے بچے نہ ہوں خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو وہ ہم سے اس شخص کی نسبت کم ہی گزارہ لے گا جو گواتنا تعلیم یافتہ نہیں مگر اس کے بچے زیادہ ہیں اس لئے