خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 817 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 817

خطبات محمود ۸۱۷ سال ۱۹۳۸ء کہ اس کے کھانے والے کم ہیں اور اُس کے کھانے والے زیادہ اور اگر ہم اس کے گزارہ میں کی ترقی کریں گے تو اسی حساب سے۔مثلاً فرض کرو ہم نے تین روپیہ فی بچہ گزارہ مقرر کیا ہوا ہے اب جب بھی ہم کسی کا گزارہ بڑھائیں گے اسی اصل پر بڑھا ئیں گے کہ فی بچہ اتنے روپے زائد کر دو یہ نہیں کہ یونہی سالوں کی زیادتی پر رقمیں بڑھاتے چلے جائیں۔تو میری غرض یہ ہے کہ میں تحریک جدید کے واقفین کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلاؤں وہ اپنی زندگی خدمت دین کیلئے وقف کی کریں اور ہم اس قربانی کے معاوضہ میں انہیں وہ تعلیم دلائیں جو ان کا سارا خاندان مل کر بھی کی انہیں تعلیم نہیں دلا سکتا۔گویا ان کا معاوضہ انہیں روپیہ کی صورت میں نہیں بلکہ تعلیم کی صورت میں کی ملے لیکن تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ہم سے وہی گزارہ لیں جو اس وقت لے رہے ہیں اور اس میں زیادتی انہی اصول پر ہو جو میں نے بیان کئے ہیں۔ان نو جوانوں میں بعض اچھے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں وہ اگر اپنی زندگی وقف نہ کرتے اور یوں کو شش کرتے تو انہیں کی اچھی اچھی ملازمتیں مل جاتیں۔پس چونکہ انہوں نے ایک قربانی کی ہے اس لئے میری تجویز ہے کہ انہیں ایسی اعلیٰ تعلیم دلاؤں کہ نہ صرف دینی طور پر بلکہ دنیوی طور پر بھی وہ ہر جگہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جائیں۔اگر مالی لحاظ سے وہ غریب ہوں تو علم اور عقل اور تجربہ کے لحاظ سے اتنی دولت ان کے پاس ہو کہ وہ کسی جگہ ذلیل نہ ہو سکیں۔اگر کسی انسان کے پاس نہ تو علم ہو اور نہ دولت ہو تو وہ ذلیل ہو جاتا ہے لیکن اگر ان میں سے اگر ایک چیز بھی ہو تو کسی جگہ وہ ذلت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔پس میں نہیں چاہتا کہ تحریک جدید کے واقفین ذلیل ہوں۔میں یہی چاہتا ہوں کہ انہیں عزت حاصل ہو مگر ان کی عزت دولت کی وجہ سے نہ ہو بلکہ علم کی وجہ سے ہو اور انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ مقام حاصل ہو کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا دولت مند بھی انہیں ذلیل نہ سمجھ سکے۔میری کوشش یہ ہے کہ اس دور میں سو واقفین زندگی تیار ہو جائیں جو علا وہ مذہبی علم رکھنے کے ظاہری علوم کے بھی ماہر اور سلسلہ کے تمام کاموں کو حزم اور احتیاط سے کرنے والے اور قربانی وایثار کا نمونہ دکھانے والے ہوں۔اس غرض کے لئے تعلیمی اخراجات کے علاوہ ہمیں ان لوگوں کو گزارے بھی دینے پڑیں گے اور یہ گزارہ پندرہ روپے فی کس مقرر ہے۔اگر ا یک