خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 815 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 815

خطبات محمود ۸۱۵ سال ۱۹۳۸ء اس سے کم میں ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا اس کیلئے میں عنقریب تحریک کرنے والا ہوں بلکہ اس کی خطبہ کے ذریعہ میں تحریک کر دیتا ہوں کہ جو نوجوان گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل وہ اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کرنے کے ارادہ سے میرے سامنے اپنے نام پیش کریں اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو بھی گریجوایٹ یا مولوی فاضل ہو گا اسے ہم بہر حال لے لیں گے کیونکہ انتخاب ہماری مرضی پر ہے۔ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ان کا تقویٰ کیسا ہے، خدمت دین کا جذبہ کس حد تک ہے، علم کیسا ہے، صحت کیسی ہے، ان کے حالات کس قسم کے ہیں اور آیا جو کام ہمارے مد نظر ہے اسے وہ خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتے ہیں یا نہیں۔غرض تمام باتیں دیکھنی پڑیں گی اور اس طرح انتخاب کا معاملہ کلیہ ہماری مرضی پر منحصر ہو گا لیکن لئے وہی جائیں گے جو یا تو گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں۔اس طرح وہ لوگ بھی لئے جاسکیں گے جو دوسرے فنون کے گریجوایٹ ہوں۔مثلاً ایک ڈاکٹر ہے وہ خواہ، بی۔اے نہ ہولیکن اسے گریجوایٹ ہی سمجھا جائے گا۔میرا منشاء یہ ہے کہ ان میں سے بعض کو مرکز کے علاوہ باہر بھجوا کر اعلی تعلیم دلوائی جائے اور علمی اور عملی لحاظ سے اس پایہ کے نوجوان تیار کئے جائیں جو تبلیغ تعلیم اور تربیت کے کام میں دنیا کے بہترین نوجوانوں کا مقابلہ کر سکیں بلکہ ان سے فائق ہوں۔صرف انہیں مذہبی تعلیم ہی دینا میرے مدنظر نہیں بلکہ میرا منشاء ہے کہ انہیں ہر قسم کی دنیوی معلومات بہم کی پہنچائی جائیں اور دنیا کے تمام علوم انہیں سکھائے جائیں تا دنیا کے ہر کام کو سنبھالنے کی اہلیت ان کی کے اندر پیدا ہو جائے۔ان نوجوانوں کے متعلق میری سکیم جیسا کہ میں گزشتہ مجلس شوری کے موقع پر بیان کر چکا ہوں یہ ہے کہ اُنہیں یورپین ممالک میں بھیج کر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلائی جائے اور جب یہ ہر قسم کے علوم میں ماہر ہو جائیں تو انہیں تنخواہیں نہ دی جائیں بلکہ صرف گزارے دیئے جائیں اور ان کے گزارہ کی رقم کا انحصار علمی قابلیت کی بجائے گھر کے آدمیوں پر ہو جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں ہوا کرتا تھا اور یوں انتظام ہو کہ جس کی بیوی ہوئی یا بچے ہوئے اسے زیادہ الاؤنس دے دیا اور جس کے بیوی ، بچے نہ ہوئے اُسے کم گزارہ دے دیا یا کسی نو جو ان کی کی شادی ہونے لگی تو اسے تھوڑی سی امداد دے دی۔یہ نہیں ہو گا کہ چونکہ فلاں ولایت سے پاس شدہ ہے اس لئے اسے زیادہ تنخواہ دی جائے اور فلاں چونکہ ولایت کا پاس شدہ نہیں اس لئے کی