خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 745 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 745

خطبات محمود ۷۴۵ سال ۱۹۳۸ ان کو آپس میں جُدا کرتے چلے جائیں، کتنے ہی دنوں کا فاصلہ ہم میں اور ان میں حائل ہوتا چلا جائے لیکن جس وقت رمضان کا مہینہ آتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان صدیوں اور ان سالوں کو اس مہینہ نے لپیٹ لپٹ کر چھوٹا سا کر کے رکھ دیا ہے اور ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے ہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی قریب نہیں چونکہ قرآن خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس لئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام فاصلہ کو رمضان نے سمیٹ سماٹ کر ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب پہنچا دیا ہے۔وہ بعد جو ایک انسان کو خدا سے ہوتا ہے، وہ بعد جو ایک مخلوق کو اپنے خالق سے ہوتا ہے، وہ بعد جو ایک کمزور اور نالائق ہستی کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے خدا سے ہوتا ہے وہ یوں سمٹ جاتا ہے اور وہ یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے سورج کی کرنوں سے رات کا اندھیرا۔یہی وہ حالت ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کی وإذا سألكَ عِبَادِي عَنِّي فَانّي قَرِيب ، جب رمضان کا مہینہ آئے اور میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں کہ میں انہیں کس طرح مل سکتا ہوں تو تو انہیں کہہ دے رمضان اور خدا میں کوئی فرق نہیں۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں خدا اپنے بندوں کے لئے ظاہر ہوا اور اس نے چاہا کہ پھر اپنے بندوں کو اپنے پاس کھینچ کر لے آئے اس کلام کے ذریعہ سے جو حبل اللہ ہے۔جو خدا کا وہ رستہ ہے جس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا مخلوق کے ہاتھ میں اب یہ بندوں کا کام ہے کہ وہ اس رستہ پر چڑھ کر اپنے خدا کے پاس پہنچ جائیں۔شاید عام طور پر رستے پر چڑھنے کی قیمت کا اندازہ ہم لوگ نہیں کر سکتے لیکن جہازوں میں یہ اندازہ بہت اچھی طرح ہو سکتا ہے۔جہازوں میں رستی کی سیڑھیاں ایک لازمی چیز ہیں۔جب جہاز کسی بندرگاہ پر پہنچتا ہے تو قانون کے مطابق جہاز کے کپتان کو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہ بندرگاہ تک اس جہاز کو لے جائے وہ چند میل بندرگاہ کی حدود سے باہر جہاز کو کھڑا کر دیتا ہے اور بندرگاہ سے ایک پائلٹ آتا ہے جو بندرگاہ کے رازوں سے واقف ہوتا ہے۔جب اس کی کشتی جہاز کے قریب پہنچتی ہے تو اوپر سے ایک رستہ لڑکا یا جاتا ہے جس کے ساتھ ایک سیڑھی ہوتی ہے وہ رستہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اوپر چڑھ جاتا ہے۔تو راستے کا صحیح مفہوم جو وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ الله جَمِيعًا ت میں بیان کیا گیا ہے اسے انسان جہاز میں اچھی طرح