خطبات محمود (جلد 19) — Page 746
خطبات محمود ۷۴۶ سال ۱۹۳۸ء سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح رہتے وہاں سیڑھیوں کا کام دیتے ہیں۔سو قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے رستے کے طور پر لٹکایا اور فرمایا تم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ آؤ مگر دیکھنا ! اکیلے نہ آنا بلکہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا باقیوں کو بھی لپیٹ لپٹ کر اپنے ساتھ شامل کر لینا اور سب کی گٹھڑی باندھ کر ہمارے پاس لے آنا۔گویا یہ ایک ایسا دعوت نامہ ہے جو کسی فرد سے مخصوص نہیں بلکہ تمام لوگوں کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔جیسے ایک دعوت نامہ تو یہ ہوتا ہے کہ فلاں وقت آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور کھانا تناول فرمائیں اور ایک دعوت نامہ یہ ہوتا ہے کہ فلاں وقت صرف آپ کی ہی نہیں بلکہ آپ کے بیوی بچوں اور ملازموں کی بھی دعوت کی ہے۔سوقرآن وہ دعوت نامہ ہے کہ جس نے بھی اسے کھولا اس نے اس میں یہ لکھا ہو انہیں دیکھا کہ صرف تمہاری دعوت ہے بلکہ اس نے یہ لکھا ہوا دیکھا کہ تمہاری اور تمہارے سب جاننے والوں کی دعوت ہے۔غرض رمضان آتے ہی اللہ تعالیٰ کی یاد ہمارے دلوں میں تازہ کر دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف ایک رستہ پھینکا گیا ہے جو آج بھی لٹک رہا ہے اور آج بھی کی اس بات کا موقع ہے کہ تم اس رستہ کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاؤ۔ابھی ایک دو دن ہوئے مجھے اس کے متعلق ایک عجیب کشفی نظارہ نظر آیا۔میں سحری کے انتظار میں لیٹا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا جیسے پہاڑوں میں ثنلز ہوتی ہیں اور ان میں بورنگ کر کے اندرونی طور پر ایک گول سا رستہ تیار کیا جاتا ہے اس طرح مجھے معلوم ہوا کہ جو میں ایک گول رستہ بنا ہوا ہے کہ جو تاگے کی ریل کے اندرونی سوراخ سے مشابہہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ یہ تاگے کی ریل کا سوراخ چھوٹا ہوتا ہے مگر وہ سوراخ بڑا تھا۔یا یوں سمجھ لو کہ جیسے آگ جلانے والی پھنکنی ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک گول سا سوراخ ہوتا ہے جس سے آر پار نظر آ جاتا ہے اس کی طرح جو میں ایک گول رستہ بنا ہوا ہے اور اس کے ایک طرف خدا تعالیٰ کی ذات بیٹھی ہے اور دوسری طرف میں بیٹھا ہوں اور اس میں مجھے اللہ تعالیٰ کا اس قدر قرب معلوم ہوتا ہے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے راز آپ ہی آپ کھلتے چلے جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی قطعی اور یقینی ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں اس کے