خطبات محمود (جلد 19) — Page 744
خطبات محمود ۷۴۴ سال ۱۹۳۸ء عرصہ دراز تک یاد رکھتے ہیں۔عورتوں کو میں نے دیکھا ہے کہ ان کی ساری تاریخ بچوں کی پیدائش پر ختم ہو جاتی ہے، جب پوچھا جائے فلاں واقعہ کب ہوا ؟ تو کہیں گی فلاں بچہ کی پیدائش سے چار ماہ پہلے یا چار ماہ بعد۔گویا ان کے لئے دنیا کی تاریخ کا اندازہ ان کے بچوں کی پیدائش سے ہوتا ہے۔وہ بچے آگے کس حیثیت کے ہوتے ہیں یہ دوسرا امر ہے۔بعض دفعہ وہ اچھی حیثیت کے بھی مالک بن جاتے ہیں مگر بعض اوقات وہ اپنی زندگی سے بھی بیزار ہوتے ہیں ، بھوکے مر رہے ہوتے ہیں، ان کی اولا د بھی بھوکی مر رہی ہوتی ہے، ان کی بیوی کو تن ڈھانکنے کی کے لئے کافی کپڑا بھی نہیں ملتا۔ان کے پاس کوئی مکان نہیں ہوتا جس میں وہ رہائش اختیار کی کر سکیں۔انہیں کوئی کام نہیں ملتا جس سے وہ اپنا گزارہ کر سکیں۔اور اگر کام ملتا ہے تو گزارے کے مطابق تنخواہ نہیں ملتی۔اور اگر کام کے لحاظ سے تنخواہ معقول ملتی ہے تو کھانے والے زیادہ کی ہوتے ہیں۔غرض ان کی زندگی تکلیف اور مصیبت کا ایک غیر متناہی سلسلہ ہوتی ہے مگر ایک ماں دنیا کے سارے کاموں کی بنیاد انہی کی پیدائش پر رکھتی ہے۔چاند گرہن اور سورج گرہن عالم سفلی کے ادوار کا ایک عجیب کرشمہ ہیں اور اس عالم کے بڑے بڑے گل پرزوں کی رفتار سے تعلق رکھتے ہیں مگر وہ سورج گرہن اور چاند گرہن کو بھی اپنے بچوں کی پیدائش کے ساتھ ملا دیتی ہیں۔کہیں گی فلاں سورج گرہن اُس وقت ہوا جب فلاں بچہ میرے پیٹ میں تھا یا فلاں چاند گرہن اُس وقت ہوا جب میرا فلاں بچہ پیدا ہوا تھا یا اتنے مہینے اس کی پیدائش میں باقی تھے۔تو ان کی ساری دنیا ان کے بچوں میں ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ بچے ان کے ہوتے ہیں۔پس اگر ایک عورت تمام دنیا کی تاریخ اپنے بچوں کے ذریعہ یا درکھتی ہے تو ہمیں جس مہینے سے قرآن کا نور ملا اس کی عظمت اور شان کو پہچاننا اور اس کے انوار اور برکات کے حصول کے لئے بے تاب ہو جانا ہمارے لئے جس قدرضروری ہے وہ ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے۔غرض رمضان اسلام اور ایمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور جس شخص کے دل میں بھی اسلام اور ایمان کی قدر ہوگی وہ اس مہینہ کے آتے ہی اپنے دل میں ایک خاص حرکت اور اپنے جسم میں ایک خاص قسم کی کپکپاہٹ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کتنی ہی صدیاں ہمارے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان گزر جائیں، کتنے ہی سال ہمیں اور کی