خطبات محمود (جلد 19) — Page 584
خطبات محمود ۵۸۴ سال ۱۹۳۸ء انہوں نے بعض جگہ پر حوالہ جات پر بھی غور نہیں کیا۔چنانچہ انہوں نے ایک حوالہ میری کی طرف اور علماء سلسلہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے درج کیا ہے جو اگر وہ غور کرتے تو ہر گز اس قابل نہ تھا کہ اس موقع پر اور اس طرح اسے درج کیا جاتا۔مولوی ابو العطاء صاحب مولوی محمد اسماعیل صاحب کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : ” جناب مولوی صاحب کے نزدیک کامیابی سے پہلے تو کوئی نبی قتل نہیں ہوسکتا۔ہاں یہ کہنا کہ کوئی سچا نبی مطلق طور پر قتل ہو ہی نہیں سکتا یہ کلیہ درست نہیں۔کیونکہ قرآن مجید ن وَيَقْتُلُون النبین کلا میں یہ بتایا ہے کہ نبی قتل ہو سکتے ہیں اور في الواقع قتل ہوئے ہیں۔میں نہایت ادب سے اپنے محسن اُستاد کی خدمت میں عرض پرداز ہوں کہ شاید جناب کی نظر سے يَقْتُلُونَ النّبیین کے وہ معنے اوجھل ہو گئے جو اس آیت کے احمدی علماء کی طرف سے سید نا حضرت۔۔۔۔خلیفہ اسیح الثانی ايَّدَهُ الله بِنَصْرِہ کی زیر نگرانی شائع ہو چکے ہیں۔لکھا ہے: يَقْتُلُونَ النّبين اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بنی اسرائیل نبیوں کو قتل کرتے تھے۔۔۔پس يَقْتُلُون النبین سے یہ مراد نہیں کہ وہ في الواقع نبیوں کو قتل کرتے تھے کبھی قتل کا لفظ صرف کوشش قتل یا ارادہ قتل پر بھی بولا جاتا ہے۔مولوی ابو العطاء صاحب نے اس حوالہ کو نقل کر کے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ مولوی صاحب كا يقتلون النبتين سے یہ استدلال کہ نبی قتل نہیں ہو سکتے درست نہیں۔کیونکہ علمائے سلسلہ احمدیہ نے خلیفہ ثانی کی نگرانی میں جو ترجمہ کیا ہے۔اس میں ان معنوں کو ر ڈ کیا ہے اور یہ درست۔کہ سلسلہ کے علماء نے ان معنوں کو اس آیت میں رڈ کیا ہے لیکن جب احقاق حق کی کوشش کی جائے تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس یا اس حوالہ سے کیا نکلتا ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اصل مضمون کیا ہے اور اسی حوالہ سے جو مولوی صاحب نے درج کیا ہے اصل مضمون پر بھی روشنی پڑتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے: اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بنی اسرائیل نبیوں کو قتل کرتے تھے کیونکہ حضرت موسیٰ کے زمانہ تک کسی نبی کا قتل بنی اسرائیل سے ثابت نہیں“۔19