خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 583

خطبات محمود ۵۸۳ سال ۱۹۳۸ء مولوی ابوالعطاء صاحب کو اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم وضاحت سے بتائی ج جائے تو پھر بھی وہ آپ کا حکم ماننے کے لئے تیار نہیں۔ممکن ہے انہوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے عدم قتل کے متعلق جو کچھ لکھا ہو عدم علم کی وجہ سے لکھا ہو۔پس آپ کو محض اصولی طور پر جواب لکھنا چاہئے تھا۔یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کو نہیں مانتا وہ ایسا ہوتا ہے پھر میں نے اس مجلس میں بھی ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہم نے بار ہاسنا ہے کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے تھے۔اس پر مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے پھر کہا کہ واقع میں یہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بار ہا فرما یا کرتے تھے کہ حضرت یحیی علیہ السلام قتل ہوئے ہیں۔باقی رہی مولوی صاحب کی روایت۔سو اس کا اصل مضمون سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اوّل تو ممکن ہے مولوی صاحب کو خلط ہو گیا ہو کیونکہ یہ بات حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ممکن ہے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پرانی تحقیق کی بنا پر فرمائی ہو۔اس کی وضاحت آپ پر نہ ہوئی ہو مگر یہ اس سے پہلے کا واقعہ ہے کہ جب ہم نے حوالہ جات نکال کر دکھائے تھے پھر سوال یہ ہے کہ جن امور کے متعلق حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام کو انکشاف ہوا ہے وہ تو پھر وفات مسیح وغیرہ چند ہی ہیں۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو حق ہونا چاہئے کہ جس مضمون میں چاہیں آپ سے اختلاف کریں۔حکماً عدلاً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت آپ کا نام رکھا ہے۔ہمارا تو نام نہیں رکھا۔حق یہ ہے کہ ہر دینی مسئلہ کے متعلق جس کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا ہو۔آپ کا ہر قول حجت ہے اور اس قول کو تو آپ خود حجت قرار دے رہے ہیں۔چنانچہ جو حوالے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے دیئے گئے ہیں ان میں تو بالوضاحت یہ بات پائی جاتی ہے اور وہاں شک کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔روایات میں تو پھر بھی کسی حد تک محبہ کا امکان ہو سکتا ہے مگر تحریرات میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پالوضاحت اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے اور ان کے ہوتے ہوئے کسی کے کی لئے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہہ سکے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید نہیں ہوئے۔خدا کرے غلط ہی ہومگر مجھ پر مولوی صاحب کا مضمون پڑھ کر یہ اثر ہوا ہے کہ گویا انہیں اس بات کا غصہ ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب نے ان کے مضمون کی تردید کیوں کی ہے اور اسی وجہ سے