خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 560

خطبات محمود ۵۶۰ سال ۱۹۳۸ء اندر نہ رکھی جس حد کے اندر رکھنی چاہئے تھی۔اگر مسلمان اس کو اس کی حد کے اندر رکھتے اور سمجھتے کہ اس میں محض جھوٹے مدعیان نبوت کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی ہے۔کسی ایسے مدعی کے آنے کے راستہ کو مسدود قرار نہیں دیا گیا جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بعد کی نبوت کی بنا دے تو کبھی وہ فتنہ پیدا نہ ہوتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت پر پیدا ہوا اور جس کی وجہ سے لاکھوں مسلمان خدا تعالیٰ کے ایک نبی کو قبول کرنے سے محروم رہ گئے۔یہی غلطی ہمیشہ ٹھوکر کا موجب ہو ا کرتی ہے اور اسی وجہ سے خلفاء اربعہ کے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ مسائل کے متعلق جب آپس میں گفتگو ہوتی تو وہ صحابہ کی رائے معلوم کیا کرتے اور اُن سے دریافت کیا کرتے کہ انہوں نے اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سُنا ہوا ہے تا خالی رائے اور عقلی قیاسات پر لوگ نہ جائیں بلکہ اس لمبے تجربہ پر جائیں جو انہوں کی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔پھر جب بہت سے صحابہ کی را ئیں مل جاتیں اور وہ متفقہ طور پر یا ان کی اکثریت یہ بتاتی کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فلاں مسئلہ اس طرح سُنا ہوا ہے تو اس پر متحد ہو جاتے اور اُن کے آپس کے اختلافات سب دُور ہو جاتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس میں بھی بعض دفعہ غلط نہی ہو جاتی ہے مگر جب مختلف روایات جمع ہو جائیں تو فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور انسان دیکھ سکتا ہے کہ اکثر روایات کا اتحاد کس بات پر ہے۔ور نہ ایک آدمی بعض دفعہ سمجھنے میں غلطی بھی کر جاتا ہے۔بیسیوں مثالیں تاریخ میں ایسی ملتی ہیں کہ حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں صحابہ جمع ہوتے۔زیر بحث مسائل پر تبادلۂ خیالات کرتے اور بتاتے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ کی علیہ وآلہ وسلم سے اس بارہ میں کیا سنا ہوا ہے۔ان روایات پر جو مختلف ہوتیں وہ تنقید کرتے کی اور اس تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں آخر صحابہ کی اکثریت تسلیم کر لیتی کہ فلاں بات صحیح ہے اور دوسرے کو غلطی لگی ہے یا بعض دفعہ وہ مختلف روایات سُن کر یہ کہتے کہ روائتیں تو دونوں درست ہیں مگر پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کہا اور بعد میں آپ نے یوں فرمایا۔تو ماب کی موجودگی میں اگر صحابہ کی گواہیوں پر مسائل مختلفہ کے تصفیہ کی بنیاد نہ اُٹھائی جائے تو انبیاء کی صحبت میں اُن کے ایک لمبا عرصہ رہنے کی کوئی غرض ہی نہیں رہتی۔پھر تو چاہئے تھا