خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 561

خطبات محمود ۵۶۱ سال ۱۹۳۸ء ایک لکھی لکھائی کتاب آسمان سے لوگوں کے لئے نازل ہو جاتی۔نہ کوئی نبی آتا ، نہ اس کا کوئی صحابی بنتا مگر جب ایک نبی آتا ہے اُس کے زمانہ میں لوگ اس پر ایمان لاتے ، اس کی صحبت کی میں اپنی عمروں کا ایک لمبا عرصہ گزارتے ، اس کی باتیں سنتے اور اس کے فیوض سے مستفیض ہوتے ہیں تو اسی لئے کہ وہ آئندہ زمانہ میں لوگوں کی صحیح راہنمائی کرسکیں اور بتا سکیں کہ وہ نبی جس کی صحبت میں وہ رہے اس کا فلاں مسئلہ کے متعلق کیا فیصلہ تھا اس طریق پر جب کوئی نتیجہ نکالا کی جائے گا تو وہ بہت زیادہ سلجھا ہوا ہو گا۔اگر تو کسی مسئلہ کے متعلق صحابہ کا اتفاق ہوگا تو وہ تو بہر حال صحیح ہوگا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اجماع امت کبھی غلط نہیں کی ہوسکتا اور اگر ان کا کسی بات پر اتفاق نہیں ہوگا تو بھی ان کی روایات سُن کر لوگوں کے لئے اصل بات کا سمجھنا بہت آسان ہو جائے گا کیونکہ ان کے صرف الفاظ نہیں ہوں گے بلکہ اپنا ایک تاثر بھی ہوگا اور تاثر بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم بعض الفاظ سُنتے ہیں اور ان سے ہمیں غلطی لگ جاتی ہے مگر کی ہماری طبیعت پر جو مجموعی اثر نبی کی صحبت کا ہوتا ہے وہ غلط نہیں ہوسکتا کیونکہ تاثر سُنت کا رنگ رکھتا ہے اور سنت حدیث پر غالب ہے۔مجھے اس مضمون کے بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ آج کے الفضل میں ایک ایسا مضمون شائع ہوا ہے جو قطعی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کے خلاف اور آپ کی تحریرات کے یقیناً مخالف ہے اور ہم لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ ہیں ہم جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں اپنے کانوں سے سنی ہیں اور ہم جو ایک لمبا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہے ہمارے علم بلکہ متواتر علم کے خلاف ہے اور اسی قسم کی باتیں ہیں جو آئندہ زمانہ میں خطرناک فتن پیدا کرنے کا موجب بن جاتی ہیں مثلاً دیکھ لو ہم مسئلہ اجرائے نبوت کے قائل ہیں۔اب بالکل ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت آئندہ بھی دُنیا میں کوئی ایسا نبی بھیجے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہو۔جب ایسا ممکن ہے تو جو معیار نبوت پہلے انبیاء کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے وہی اس کے لئے بھی ہوگا کیونکہ معیار کے لحاظ سے تمام انبیاء برا بر ہوتے ہیں ا