خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 559

خطبات محمود ۵۵۹ سال ۱۹۳۸ بعض حدیثوں میں آپ نے چھبیس کی تعداد بتائی اور بعض میں تھیں کی اور فرمایا کہ یہ دقبال اور کذاب ہوں گے۔پس ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص بھی جھوٹا دعوی نبوت کرے گا وہ کذاب اور دجال ہو گا مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب کوئی سچا نبی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بچے نبی کے آنے کی نفی نہیں فرمائی بلکہ بعض جھوٹے مدعیان نبوت کے پیدا ہونے کی اس میں خبر دی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حد مقرر کر دی کی اور فرمایا کہ میرے بعد بعض جھوٹے نبی بھی پیدا ہوں گے۔بعض احادیث میں چھیں جھوٹے کی مدعیان نبوت کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی ہے اور بعض میں آتا ہے کہ تمیں جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے سے مگر بہر حال آپ نے فرمایا کہ وہ جھوٹے مدعی ہوں گے اور کذاب اور دجال ہوں گے اور اس میں کیا طبہ ہے کہ جو شخص جھوٹا دعویٰ نبوت کرے گا وہ ضرور کذاب اور دقبال ہوگا۔تو ہم اس کا انکار تو نہیں کرتے۔ہم تو تسلیم کرتے ہیں کہ جھوٹا دعوی نبوت کرنے والا کذاب ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جس کی خدا تعالیٰ نے اسے اجازت نہیں دی۔پس وہ جھوٹ بولتا ہے اور جو شخص جھوٹ بولتا ہو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے نہیں ہوسکتا کی اور جو اُمتِ محمدیہ میں سے ہی نہیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ پر افترا بھی کرتا ہے وہ اگر کذاب اور دجال نہیں تو کذاب اور دجال اور کون ہو گا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے که من أَظْلَمُ مِمَّن افترى على الله كَذِبًا ہے کہ اس شخص سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ پر افتراء کرے۔پس جو شخص دعوی کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے الہام ہوتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے کوئی الہام نہیں ہوتا اور دعوی کرتا ہے کہ میں نبی ہوں۔حالانکہ خدا نے اُسے نہیں کہا کہ تو نبی ہے وہ مسلمان کیا وہ تو ایک ہندو سے بھی بدتر ہے، ایک کی عیسائی سے بھی بدتر ہے، ایک یہودی سے بھی بدتر ہے بلکہ ایک دہریہ سے بھی بدتر ہے۔وہ کی اُمت محمدیہ میں کہاں ہو سکتا ہے؟ تو اُمت محمدیہ سے خارج ہو کر دعویٰ نبوت کرنے والے ضرور کذابون دجالون ہوں گے مگر اس سے یہ کہاں سے نکلا کہ کوئی سچائد عی بھی نہیں ہوسکتا اور اگر تمہیں کوئی سچا مدعی ملے تو اسے بھی کذاب اور دجال قرار دے دو لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ی نقص اسی لئے پیدا ہوا کہ مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات اس حد کے