خطبات محمود (جلد 19) — Page 513
خطبات محمود ۵۱۳ سال ۱۹۳۸ء کے ساتھ رستہ بتایا۔مگر ڈرائیور چونکہ ناواقف تھا اس نے پھر جرح کی اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لنڈن کا ج رہنے والا نہیں معلوم ہوتا ہے اسے موٹر والے سے کوئی ضروری کام تھا کیونکہ اس نے اس سے کہا کہ آپ میرا انتظار کریں میں رستہ بتا آؤں۔چنانچہ وہ دو تین میل تک ہمارے ساتھ آیا اور مسجد کے سامنے پہنچ کر اس نے بتایا کہ یہ ہے۔تو تیسری شق اس کی یہ ہے کہ منزلِ مقصود پر پہنچا دیا جائے۔پہلی شق میں تو صرف زبان ہی کام کرتی ہے مگر دوسری اور تیسری میں صرف زبان کام نہیں دے سکتی بلکہ اس کے ساتھ حرکت کی قابلیت بھی ضروری ہے۔اگر پاؤں نہ ہوں تو صرف پہلی قسم ہدایت کی ہی ہے جو ہم اختیار کر سکتے ہیں۔یہ نہیں کر سکتے کہ رستہ دکھاویں۔یا رستہ پر لیتے چلیں کیونکہ ان دونوں شقوں کے لئے حرکت کی قابلیت درکار ہے جو انسان کے اندر لاتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔یہ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بغیر فضل کی تکمیل نہیں ہو سکتی اور یہ اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی تھ ہیں۔وہ سمیع ہے یعنی سنتا ہے مگر کانوں سے نہیں ، وہ بصیر ہے یعنی دیکھتا ہے مگر آنکھوں سے نہیں ، وہ متکلم ہے یعنی بولتا ہے مگر زبان سے نہیں ، وہ حرکت کرتا ہے مگر پاؤں سے نہیں ، وہ پکڑتا ہے اور دیتا ہے گرفت کی طاقت رکھتا ہے مگر ہاتھوں سے نہیں۔وہ اگر سننے والا نہ ہوتا تو فریا دکس طرح سنتا ، وہ اگر دیکھنے والا نہ ہوتا تو جمادات اور حیوانات کی حالت سے کس طرح آگاہ ہوتا ، اگر بولنے والا نہ ہوتا تو ہدایت کس طرح دیتا ، اگر چلنے والا نہ ہوتا تو ہدایت کے مقام پر کس طرح پہنچا تا ، اگر اس کے ہاتھ نہ ہوتے تو وہ مشکل کے وقت مدد کس طرح کرتا۔جب ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ ہیں تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ تمام وہ کام کر دیتا ہے جس کے لئے انسان کو ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی وہ صفات الوہیت کی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ مخلوق کے ساتھ تعلق پیدا کر دیتا ہے اور یہ سب کامل طور پر انسان میں ہی پائی جاتی ہیں۔باقی حیوانات میں سے بعض چلتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہوتے۔جیسے بعض بندر، پکڑتے ہیں اور اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاتھ ہیں مگر ان کی زبان نہیں وہ چیز کو پکڑ تو لیں گے مگر اپنے خیالات تفصیلی طور پر بیان نہیں کر سکتے۔یہ سب باتیں انسان ہی میں پائی جاتی ہیں تا وہ الوہیت کا مرکز ہو جائے اور جس طرح خدا تعالیٰ اپنی قوتوں کو ظاہر کرتا ہے ، یہ بھی کرے۔ورنہ ای