خطبات محمود (جلد 19) — Page 514
خطبات محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۸ء تھوڑی تھوڑی یہ طاقتیں تو سب میں ہیں۔قرآن کریم نے سب سے پہلے بتایا کہ نباتات میں حسن ہے اور اب سائنس نے بھی اس کو تسلیم کر لیا ہے۔قرآن کریم ہی سب سے پہلا کلام ہے جس نے یہ بتایا ہے کہ ہر چیز کے جوڑے ہوتے ہیں اور جوڑا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حس موجود ہے۔قرآن کریم نے ہر چیز کا جوڑا بتایا ہے گویا نہ صرف نباتات بلکہ جمادات میں بھی حسن ہے۔اور اب سائنس کے بعض ماہرین اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں اور بعض دھاتوں کے متعلق وہ مانتے ہیں کہ ان میں حسن ہوتی ہے۔مثلاً ٹین کے متعلق مجھے یاد ہے میں نے پڑھا ہے کی کہ اس میں حسن کا ہونا تسلیم کیا گیا ہے۔امید ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ ان علوم کو پالے گی۔تو بیرونی حواس کامل طور پر انسان میں پائے جاتے ہیں اور اگر غور سے دیکھیں تو اندرونی حصے بھی بیرونی میں موجود ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ تبلیغ کرو، چندہ دو یا بنی نوع انسان کی خدمت کرو تو سارا زور ہمارا ان صفات کے متعلق ہوتا ہے جو الوہیت کی ہیں یہ سارے کام اللہ تعالیٰ کرتا کی ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ چندے دو تو گویا ہم یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفت رزاق کے مظہر بنو اور جب کہتے ہیں تبلیغ کرو تو منشاء یہ ہوتا ہے کہ ہادی بن جاؤ ، جب کہتے ہیں لوگوں کی خدمت کی کرو تو رحمن اور رحیم بناتے ہیں یہ سارے کام الوہیت کے ہیں اور یہ سب اچھے کام ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے کہ ہمارے یہ سارے کام الوہیت کے ہوں اور اپنے مقام کو ہم بھول ہی جائیں ہمیں یہ کبھی یاد بھی نہ آئے کہ ہم مخلوق ہیں۔خدا تعالی خالق اور اللہ ہے اس لحاظ سے اس کی ذاتی صفات از لی طور پر کامل ہیں اور ان کی تکمیل کا بار اس پر نہیں لیکن ہم تو مخلوق ہیں ی اس لئے اپنی تکمیل کی طرف بھی ہماری توجہ ہونی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو آپ ہی آپ کامل ہے اسے تو یہ ضرورت نہیں کہ کہے میرے اندر کی فلاں چیز خراب ہے اسے درست کروں۔وہ ازلی طور پر کامل ہے۔لیکن ہمارے اندر تو مخلوق کی صفات بھی ہیں اور مخلوق کا انجن بگڑتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندرونی حصوں کے مقابلہ پر بعض بیرونی حصے ایسے رکھے ہیں کہ جن سے یہ علم ہوتا ہے کہ جسم کے اندرونی حصہ میں کیا خرابی ہے۔مثلاً ہماری زبان ہے یہ میٹھا بھی چکھتی ہے اور کڑوا بھی ، ترش بھی اور نمکین بھی لیکن بعض اوقات یہ آپ ہی آپ ہر چیز کو کڑ وا چکھنے لگتی ہے۔یہ حالت بتاتی ہے کہ جسم کے اندر کوئی خرابی ہے اور یہ اندرونی حسن کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔