خطبات محمود (جلد 19) — Page 512
خطبات محمود ۵۱۲ سال ۱۹۳۸ء رستہ دکھانا۔اور رستہ پر لیتے چلے جانا لے کبھی کوئی شخص تم سے رستہ پوچھتا ہے تم کسی کام میں مشغول ہوتے ہو یا طبیعت میں بخل کا مادہ ہوتا ہے یا احسان کا مادہ نہیں ہوتا۔تم ہل چلا رہے ہوتے ہو یا لکڑیاں کاٹتے ہو تو وہیں سے منہ اٹھا کر کہہ دیتے ہو کہ اس طرف چلے جاؤ آگے دو رستے ہوں گے وہاں سے اس طرف ہو جانا۔تم اسے رستہ تو بتا دیتے ہو مگر اپنی جگہ سے ہلتے نہیں ہو۔اس سے ایک اجنبی آدمی جسے رستہ پانے کی مشکلات ہونگی اور جو اس علاقہ کا واقف نہ ہوگا اس کے دل کی گھبراہٹ دور نہ ہو سکے گی گوہ تمہارا ممنون ہوگا اسے خدشہ ہوگا کہ شاید کہیں بھول جاؤں اور وہ تسلی کے لئے بعد میں اگر کوئی اور شخص اسے ملے تو وہ اس سے بھی پوچھتا ہے کہ فلاں مقام کو کونسا رستہ جاتا ہے۔لیکن اگر تمہارے اندر احسان کا مادہ زیادہ ہے یا تمہیں فرصت ہے اور نیکی کی طرف تمہاری طبیعت راغب ہے تو تم اسے کہتے ہو کہ بھائی جی آؤ میں رستہ دکھاؤں اور اس کے ساتھ جا کر عین اس جگہ اسے چھوڑ آتے ہو جہاں سے دھوکا لگ سکتا تھا اور پھر ا سے بتا دیتے ہو کہ سیدھے چلے جاؤ لیکن اگر منزل دور اور رستہ پیچیدہ ہے تو کچھ دور تک جا کر اسے پھر مشکل پیدا ہوگی اور وہ پھر پوچھے گا۔اور تیسری صورت یہ ہے کہ اگر تمہیں مقدرت اور توفیق ہے طبیعت میں نیکی اور احسان کا مادہ بہت زیادہ ہے تو تم اس کے ساتھ ہو جاتے ہو اور گھر پہنچا آتے ہو اور دکھا آتے ہو کہ یہ جگہ ہے۔مجھے یاد ہے جب ہم ولائت گئے تو ہم ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے مسجد احمد یہ دس بارہ میں تھی۔منتظمین کو بھی اس کا خیال نہ آیا کہ ممکن ہے ان کو یہاں پہنچنے میں دقت ہو۔چنانچہ پہلی دفعہ جب ہم مسجد کی طرف چلے تو اتفاق کی بات ہے کہ ٹیکسی والا بھی وہ ملا جولنڈن کا نہیں بلکہ اور علاقہ کا رہنے والا تھا اور بڑے بڑے رستوں کے سوا چھوٹی گلیوں کا واقف نہ تھا۔لنڈن کے رہنے والے ڈرائیور تو عام طور پر واقف ہوتے ہیں لیکن کی وہ نہ تھا اس لئے بڑی بڑی گلیوں تک وہ آ گیا لیکن جب مسجد دو تین میل کے فاصلہ پر رہ گئی تو وہ کی رستہ بھول گیا اب ادھر مسجد میں ہمارا انتظار ہو رہا تھا اور ادھر ہم ادھر اُدھر چکر لگا رہے تھے۔کئی کی جگہ سے پوچھا مگر رستہ نہ ملا۔ایک جگہ ایک شخص موٹر میں بیٹھا تھا اور اس کے پاس ایک شخص موٹر سائیکل پر سوار کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا۔ٹیکسی کھڑی کر کے ڈرائیور نے اس موٹر والے سے رستہ دریافت کیا لیکن اسے معلوم نہ تھا موٹر سائیکل والا جانتا تھا اس لئے اس نے اسے تفصیل