خطبات محمود (جلد 19) — Page 438
خطبات محمود ۴۳۸ سال ۱۹۳۸ء قیاسی طور پر کفارے کا مسئلہ ایجاد کر لیا۔حالانکہ ایسی باتیں قیاس سے نہیں بلکہ واقعات سے ثابت ہو ا کرتی ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ میں نے کسی کو حکم نہیں دیا کہ وہ جنازہ میں شامل ہو اور کیا جب تک میں حکم نہ دوں لوگ جنازہ میں شامل نہیں ہوا کرتے۔کیا میاں عبد الرشید نے شردھانند جی پر حملہ کیا ، یا میاں علم الدین نے لاہور میں راجپال پر حملہ کیا ، یا میاں عبد القیوم نے کراچی میں ایک ہندو پر حملہ کیا اور پھر انہیں پھانسی دی گئی ہزار ہا آدمی ان کے جنازوں میں شامل نہیں ہوئے بلکہ ایک جگہ تو ایک لاکھ آدمی جنازہ میں شامل ہوا۔اب کیا میں انہیں یہ کہنے کی کے لئے گیا تھا کہ ضرور جنازہ میں شامل ہونا۔اگر نہیں تو پھر یہاں زیادہ آدمیوں کے اکٹھا ہونے سے یہ کس طرح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ میں نے انہیں اکٹھا ہونے کا حکم دیا تھا۔(۲) میرا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر میں نے ایسا حکم دیا ہے تو احرار اور ان کے معاون مخرجین جن کو دعوی ہے کہ ہماری ہر بات انہیں پہنچتی رہتی ہے وہ گواہ پیش کریں ، پھر خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ یہ بات کہاں تک صحیح ہے۔آخر وہ جو یہ دعوی کیا کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کی کی ایک ایک بات کا انہیں پتہ ہے کیوں وہ ان لوگوں کے نام پیش نہیں کر دیتے جن کو میں نے یہ حکم دیا ہو۔وہ ایسے لوگوں کے نام بتائیں پھر لوگ ان سے خود بخود پوچھ لیں گے کہ آیا واقع میں تمہیں کوئی حکم دیا گیا تھا یا نہیں اور اگر وہ گواہ پیش نہ کریں۔تو یا درکھیں کہ یہ میرا فتویٰ نہیں بلکہ اس کا فتویٰ ہے جس کو میں بھی مانتا ہوں اور وہ بھی کہ اِيَّاكَ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ۔کے کہ اے انسان! تو خیال اور تخمینے سے آپ ہی قیاسات نہ کر لیا کر کیونکہ اگر تو ایسا کرے گا تو سب سے زیادہ جھوٹا اور کذاب قرار پائے گا۔تمہارا فرض یہ ہے کہ تم واقعات کی شہادت کو دیکھو اور پھر کوئی نتیجہ اخذ کرو۔ایسا نہ کرو کہ تم قیاس کرو اور قیاس کے بعد ایک واقعہ فرض کرلو کہ یوں ہوا ہوگا کیونکہ یاد رکھو کہ یہ گمان تمہیں جھوٹوں کی صف میں کھڑا کر دے گا۔گواس جواب کے بعد مجھے اس بارہ میں کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ لوگ کیوں زیادہ تعداد میں شامل ہوئے کیونکہ یہ تو ان میں سے ہر ایک سے پوچھنا چاہئے کہ وہ جنازہ میں کیوں شامل ہو ا۔مجھ سے اس سوال کے پوچھنے کا کیا مطلب ہے۔وہ اگر دریافت کرنا چاہتے ہیں تو کی