خطبات محمود (جلد 19) — Page 439
خطبات محمود ۴۳۹ سال ۱۹۳۸ء پہلے کسی ایک احمدی کے پاس جائیں اور اس سے پوچھیں کہ تو جنازہ میں کیوں شامل ہوا تھا، پھر دوسرے کے پاس جائیں اور اس سے پوچھیں کہ تو کیوں شامل ہوا تھا، پھر تیسرے کے پاس جائیں پھر چوتھے کے پاس جائیں اور اس طرح ہر ایک سے دریافت کریں کہ تو جنازہ میں کیوں شامل ہو ا تھا جو جواب وہ دینگے ، وہی اصل جواب ہوگا۔مگر میں کہتا ہوں کہ جماعت کے لوگوں کا میاں عزیز احمد صاحب کے جنازہ میں بکثرت شامل ہونا احرار اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بھی دودھاری حملہ ہے۔وہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر جنازہ جائز تھا تو کیوں تم نے نہ پڑھا اور اگر نا جائز تھا تو کیوں جماعت نے پڑھا گویا ایک دو دھاری تلوار انہوں نے چلائی ہے۔میں کہتا ہوں۔اس کا جواب تو میں دے چکا ہوں کہ یہ فتویٰ سنت سے ثابت ہے۔مگر تم بتاؤ کہ تم اور تمہارے ساتھی تو کہتے ہیں کہ قادیان کے اسی فیصدی لوگ اندر سے ہمارے ساتھ ہیں۔گوی اوپر سے خلافت کی تائید کرتے ہیں۔چنانچہ اسی فیصدی یا اکثر جماعت کا لفظ بار بار میرے کانوں میں پڑا ہے۔جب پیغامی الگ ہوئے تھے وہ بھی یہی کہتے تھے کہ ۸۰ فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے۔جب مستری الگ ہوئے تھے وہ بھی یہی کہتے تھے کہ ۸۰ فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور جب مصری الگ ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ ۸۰ فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے مگر میں یہ کہتا ہوں کہ اگر واقع میں ۸۰ فیصدی لوگ تمہارے ساتھ ہیں تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ میاں فخر الدین کے قاتل کے جنازہ میں کس طرح شامل ہو گئے۔ہزاروں کی تعداد اسی صورت میں بن سکتی ہے جب وہاں قادیان کے پچاس ساٹھ فیصدی لوگ جمع ہوئے ہوں اور گو میں نے وہ اجتماع نہیں دیکھا اور نہ میں نے تعداد کے متعلق تحقیقات کی لیکن بہر حال اتنی بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ تعداد بہت زیادہ تھی اور یہ تعداد اسی کی صورت میں ہوسکتی ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ پچاس ساٹھ فیصدی لوگ وہاں جمع تھے اب اگر یہ لوگ جنازہ میں اخلاص اور قلبی جوش سے شامل ہوئے تھے۔تو کیا تم جو یہ شور مچاتے رہتے ہو کہ قادیان کے اسی فیصدی لوگ ہمارے ساتھ ہیں یہ جھوٹ ثابت ہو یا نہیں۔اور کیا تمہارے ساتھ کے لوگوں کو میاں فخر الدین کے قاتل کے خلاف نفرت ہونی چاہئے تھی۔یا اس سے ہمدردی ہونی چاہئے تھی۔پس جنازہ میں اتنی کثرت سے لوگوں کی شمولیت بتاتی ہے کہ تمہارا کی