خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 434

خطبات محمود ۴۳۴ سال ۱۹۳۸ عہدہ برا ہو جاتی ہے۔پس ہم دوسروں کو جنازہ پڑھنے سے کسی صورت میں روک نہیں سکتے تھے اگر کہا جائے کہ تم نے پندرہ ہیں آدمی جنازہ پر بھیج دینے تھے باقیوں کو کیوں جانے دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ صورت اختیار کی جاتی تو پھر اور زیادہ اعتراض ہوتا اور اس صورت میں معترض یہ نہ کہتے کہ عام لوگوں کو جنازہ پڑھنے سے روکا گیا ہے بلکہ وہ کہتے کہ بعض لوگوں کو خود حکم دے کر جنازہ کی پڑھوایا گیا ہے۔تو بہتر طریق یہی تھا کہ اس بارے میں کچھ نہ کہا جاتا اور جس کا جی چاہتا جنازہ پڑھ آتا اور جس کا جی چاہتا نہ پڑھتا اور یہی طریق ہم نے اختیار کیا۔پھر یہ اعتراض کہ اگر امام جنازہ نہ پڑھے تو دوسروں کو بھی رو کے۔محض دینِ اسلام کی ناواقفیت سے پیدا ہوا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ ثابت ہے کہ جن کی لوگوں کو حدود لگی ہوں اُن کا جنازہ امام تو نہ پڑھے لیکن دوسرے مسلمان پڑھ لیں۔چنانچہ ابوداؤد میں روایت ہے کہ ماعز ایک شخص تھے۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بدکاری کا اقرار کیا، یہ واقعہ تفصیل سے احادیث میں آتا ہے، انہوں نے کئی دفعہ قسم کھائی اور بار بار کہا کہ میں نے بدکاری کی ہے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فیصلہ کیا کہ انہیں حد لگائی جائے اور سنگسار کیا جائے۔جب وہ سنگسار کر دیئے گئے تو ان کا جنازہ کی خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا لیکن دوسروں کو آپ نے اس کا جنازہ پڑھنے سے منع بھی نہیں کیا ہے اسی طرح ایک قرضدار تھا۔جب وہ فوت ہوا تو آپ نے فرمایا میں قرضدار کا جنازہ نہیں پڑھتا لیکن دوسروں کو آپ نے جنازہ پڑھنے سے نہیں روکا۔شے یہاں بھی یہی ہوا۔ایک طرف میں نے جماعت کو ان کا جنازہ پڑھنے سے نہیں روکا اور دوسری طرف میں نے خود ان کا جنازہ نہ پڑھا۔تا نوجوان آئندہ محتاط رہیں اور وہ یہ خیال کر کے کہ چلو خلیفہ وقت جنازہ تو پڑھا دیتا ہے آئندہ کسی ایسے فعل کے مرتکب نہ ہو جائیں :- پس لوگوں کو جنازہ پڑھنے سے روکنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور آپ کی سنت سے ثابت نہیں۔اور اگر لوگوں کو جنازہ پڑھنے دینا بُری بات ہے تو اس پٹھان کی طرح جس نے کی