خطبات محمود (جلد 19) — Page 433
خطبات محمود ۴۳۳ سال ۱۹۳۸ء اسی طرح جب کوئی شخص ہماری جماعت میں سے خدانخواستہ کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے کی جب کہ وہ سب عقائد کو مانتا ہو صرف کسی فعل کو نا جائز سمجھنے کے باوجود غلطی سے اس کا مرتکب ہو جا تا ہو۔یا حکم کو درست سمجھنے کے باوجود اس کا اطلاق غلط کر لیتا ہوتو اسے گو ہم جماعت سے نکال دیں گے مگر احمدیت سے الگ نہیں سمجھ سکتے ، اور ہمارا یہ حکم محض تعزیری ہوگا اور ایسے افعال کو روکنے کی خاطر ہوگا اور ضروریات دینی کی غرض سے اس قسم کے تعزیری احکام دینے کی خلفاء کو کی اجازت ہے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر اوروں کو میں نے کیوں نہ روکا جبکہ خود جنازہ نہ پڑھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ جبکہ ہم نے میاں عزیز احمد صاحب کو جماعت سے خارج نہیں کیا تھا تو ان کا جنازہ جائز تھا اور گو اس نے جو فعل کیا وہ جائز نہیں تھا لیکن اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ وہ احمدی نہیں رہا تھا۔اگر وہ یہ کہتا کہ میں قرآن کو نہیں مانتا۔میں احمدیت کو سچا نہیں سمجھتا ، میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے دعاوی میں صادق اور راستبا زنہیں مانتا تو پھر وہ حملہ ہی کیوں کرتا۔میاں فخر الدین نے اس کے باپ کو تو نہیں مارا ہو ا تھا کہ اسے کوئی نفسانی جوش تھا جس کی وجہ سے اُس نے اُسے قتل کر دیا۔اس نے غلطی سے یا صحت سے اپنے ذہن میں اس فعل کا ارتکاب محض خدا کے لئے کیا اور میں بتا چکا ہوں کہ جب کوئی شخص عقائد کا انکار نہ کرتا ہو اور صرف کسی عمل کا باوجود اس کو نا جائز سمجھنے کے غلطی سے اس کا مرتکب ہو جاتا ہوا سے ہم احمدیت سے الگ نہیں سمجھتے زیادہ سے زیادہ اُسے جماعت سے خارج کر سکتے ہیں اور جبکہ ہم نے اُسے جماعت سے بھی خارج نہیں کیا تھا تو اُس کا جنازہ پڑھنے میں کیا حرج تھا اور جس شخص کا جنازہ ہی جائز ہو اُس کا جنازہ فرضِ کفایہ ہوتا ہے۔یعنی اگر چند لوگ جنازہ پڑھ لیں تو ساری قوم الزام کی سے بری ہو جاتی ہے اور اگر کوئی بھی نہ پڑھے تو ساری قوم زیر الزام آجاتی ہے۔ایک مسلمان اگر مر جائے اور دس ہیں اس کا جنازہ پڑھ دیں تو باقی سب مسلمانوں پر جو فرض عائد ہوتا تھا وہ ادا ہو جائے گا لیکن اگر کوئی بھی جنازہ نہ پڑھے تو جو اس مقام کے لوگ ہونگے وہ سب گنہ گار ہونگے۔تو جس شخص کا جنازہ جائز ہو اس کا جنازہ کچھ نہ کچھ افراد پر واجب ہوتا ہے اگر وہ نہ پڑھیں تو ساری قوم مجرم ہو جاتی ہے اور اگر کچھ لوگ پڑھ لیں تو ساری قوم کی