خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 389

خطبات محمود ۳۸۹ سال ۱۹۳۸ ایک رئیس کونسل کی امیدواری کے لئے کھڑے ہوئے۔ان کی طرف سے سب ووٹروں کو پیغام بھیج دیا گیا۔یا تو ووٹ رکھ لو اور یا بھینس دونوں میں سے ایک چیز تو ہمیں دینی پڑے گی۔مطلب یہ تھا کی کہ اگر مجھے ووٹ نہ دیئے گئے تو تمہاری سب بھینسیں چوری ہو جائیں گی۔زمینداروں کے نزدیک ووٹ کی کیا قیمت ہوسکتی ہے۔بھینس کی قیمت تو ان کے نزدیک بہت ہے۔خود دودھ گھی کھاتے اور بچوں کو کھلاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا۔کہ وہ الیکشن میں جیت گئے۔مگر دوسرے فریق نے شکایت کر دی کہ یہ الیکشن تو پہلے ہی ہو چکا تھا۔آخر وہ الیکشن ناجائز قرار پایا اور اس رئیس کو امیدوار کھڑا ہونے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔دوبارہ الیکشن ہوا تو اس کا دوسرا بھائی کھڑا ہو گیا اور پھر یہی پیغام ووٹروں کو بھیج دیا گیا اور زمینداروں نے چُپ کر کے ووٹ دے دیئے اور پھر کسی نے شکایت بھی نہ کی کہ اگر اس کا انتخاب ناجائز ہو گیا تو تیسرا کھڑا ہو جائے گا۔مگران جانوروں کی چوری کروانے والوں کو اگر تم قتل بھی کر دو تو وہ سیندھ کبھی بھی نہیں لگائیں گے۔نہ ایسے فعل میں اور نہ کسی اور رنگ میں شرکت کریں گے۔اور صاف کہہ دیں گے۔ہم شریف لوگ ہیں ذلیل نہیں کہ ایسے کام کریں۔پھر ایک چوری کھیتی کی ہے ہمارے ضلع میں دریا کے کنارے یہ بہت ہے تم بسا اوقات دیکھو گے کہ ایک راہ گیر اپنے گھوڑے سے اتر کر اسے پاس کے کھیت میں چھوڑ دیتا ہے اور خود نماز میں مشغول ہو جاتا ہے۔اس کے خیال میں اس سے اس کی عبادت میں کوئی نقص نہیں آتا۔گویا حسن ہی باقی نہیں رہی کہ یہ بھی چوری ہے۔پھر تعلیم یافتہ لوگوں میں ایک چوری ریل کی کے کرایہ کی ہوتی ہے۔ریل میں مفت سفر کریں گے۔یا تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لے کر انٹر یا سیکنڈ میں بیٹھ جائیں گے اور وہ اسے چوری نہیں۔بلکہ اپنی زیر کی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں۔مجھے یا د ہے میں چھوٹا ہی تھا اور نانا جان مرحوم کے ساتھ سفر کر رہا تھا نانا جان مرحوم بات کرنا خوب جانتے تھے۔مجھے تو اب تک یہ نہیں آتا۔میں خود بات نہیں کر سکتا کوئی کرے تو کر سکتا ہوں مگر نانا جان مرحوم کو اس کا خوب ملکہ تھا۔وہ بات کہیں سے شروع کر کے کہیں لے آتے اور پھر تبلیغ کر دیتے تھے۔تو اس سفر میں میر صاحب نے دنیا کی عام اخلاقی حالت کا تذکرہ شروع کر دیا۔کہ ایسی ایسی بدیاں دنیا میں پیدا ہونا شروع ہوگئی ہیں اور کہ ان کا تقاضا ہے