خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 390

خطبات محمود ۳۹۰ سال ۱۹۳۸ء کہ کوئی ما مور مبعوث ہو۔اس مجلس میں ایک بڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا۔میر صاحب کی بات سن کر وہ کہنے لگا۔کہ جی دنیا کی خرابی کے متعلق آپ کو کیا معلوم ہے۔میں جانتا ہوں کہ دنیا میں کیا کیا خرابیاں ہیں اور بدیاں پیدا ہو چکی ہیں۔آپ تقویٰ کو رو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں انسانیت کا بھی نام باقی نہیں رہا۔میں جیل کا داروغہ ہوں ، میرا ملزموں سے واسطہ رہتا ہے اور میں ان برائیوں سے خوب واقف ہوں۔غرض کہ وہ مجلس پر ایسا چھا گیا کہ میر صاحب کو بات کا موقع تک نہ مل سکا۔اس کی گفتگو سن کر یہ عام اثر تھا کہ وہ بہت اچھا پڑھا لکھا آدمی ہے اور اخلاق کا ماہر ، اتنے میں ایک سٹیشن آیا جہاں ٹکٹ چیک ہوتے تھے چنانچہ ہمارے کمرہ میں بھی جو انٹر کلاس تھا ایک ٹکٹ چیک کرنے والا آ گیا۔اس نے ٹکٹ دیکھنے شروع کئے تو ہوا تھا۔یہ معلوم ہو ا کہ ان صاحب کا ٹکٹ تھرڈ کلاس کا تھا۔بابو نے کہا کہ یہ ٹکٹ تو تھر ڈ کا ہے اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص جلدی میں یا تھرڈ میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سمجھ کر بیٹھ جائے کہ آگے چل کر زائد کرایہ دے دوں گا لیکن اس سے جب بابو نے سوال کیا تو بجائے اس کے کہ وہ اس قسم کا جواب دیتا اس کے چہرہ کا نقشہ ہی بالکل بدل گیا اور ایک ہوشیار جہاں دیدہ کی جگہ چہرہ پر سے حمق اور سادگی کے آثار نظر آنے لگے اور وہ نہایت ہی سادگی سے کہنے لگا کہ کیوں صاحب! یہ انٹر کیا ہوتا ہے؟ اور سب وہ لوگ جو ابھی اس کی تقریر سن رہے تھے۔اور یوں محسوس کر رہے تھے کہ وہ گویا دنیا کی انسائیکلو پیڈیا ہے حیران رہ گئے۔بابو نے اسے ایک بیوقوف بڑھا سمجھ کر کہا اچھا میں تم سے کوئی زائد کرایہ وصول نہیں کرتا تم اب اٹھ کر تھرڈ میں چلے جاؤ اور اس نے اسے تھرڈ کے کمرہ کا رنگ بتایا کہ اس رنگ کا کمرہ ہے۔اس پر وہ کہنے لگا کہ میں تو بوڑھا آدمی ہوں کس طرح سامان اٹھاؤں آپ یہ دو پیسے لے لیں اور وہاں میرا اسباب چھوڑ آئیں۔گویا وہ اتنا سادہ آدمی ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ریلوے کا با بو ہے یا قلمی۔اور گویا یہ پہلی دفعہ ہی سفر کرنے لگا ہے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں جو ریل کی چوری کو چوری نہیں سمجھتے۔جس طرح قادیان میں ایک ایسا طبقہ ہے جو لنگر کی روٹی کی چوری کو چوری نہیں سمجھتا۔یا جیسے میرے پاس اکثر شکائتیں پہنچا کرتی تھیں کہ مقبرہ بہشتی میں درختوں کے پھول یا پھل لوگ تو ڑ لیتے ہیں اور جن لوگوں نے باغ خریدا ہوا ہوتا ہے ان سے لڑائی ہو جاتی ہے اور جب کسی کو