خطبات محمود (جلد 19) — Page 384
خطبات محمود ۳۸۴ سال ۱۹۳۸ء کبھی ایسا نہیں کہا۔جہاں تک میر اعلم ہے میری طرف یہ بات منسوب کرنا جھوٹ ہے۔یا پھر ممکن ہے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو۔بعض اوقات ایسا فقرہ بولا جاتا ہے کہ اگر پانسو منافقین بھی قادیان میں ہوں تو کیا ڈر ہے اور ممکن ہے کسی کو کسی ایسے فقرہ سے غلط فہمی ہوگئی ہو۔پس اگر یہ غلط فہمی نہیں تو مجھ پر افتراء اور بہتان ہے۔میرے علم میں ایسے لوگوں کی تعداد دو درجن سے زیادہ نہیں بلکہ اس سے کم ہی ہوگی۔اپنے دوسرا حصہ اس سوال کا یہ ہے کہ قادیان میں اسی فیصدی احمدی ایسے ہیں کہ جوا۔ماں باپ کے متعلق گالی نہ سن سکیں گے اور گالی دینے والے سے جھٹ لڑ پڑیں گے پھر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے متعلق گالیاں سن کر خاموش کیوں رہتے ہیں۔اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے علم سے یہ بات باہر ہے کہ اسی فیصدی لوگ کی ایسے ہیں میں یہ جانتا ہوں کہ ایسے احمدی بے شک ہیں۔جو منہ سے تو صبر صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں مگر جب ان کو یا ان کے ماں باپ کو یا ان کی بیوی یا ان کی بیٹی کو کوئی بات کہی جائے تو تھی ان کو طیش آ جاتا ہے۔ایسی روایتیں تو میرے علم میں سات آٹھ ہی ہیں مگر عام انسانی کمزوری اور پھر انسانی نفس کے جوش کو مد نظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ایسے لوگ اور بھی ہو نگے لیکن اس دوست کا پشاور میں بیٹھے ہوئے اسی فیصدی پر الزام لگانا درست نہیں۔میں اس امر کی تو تصدیق کرتا ہوں کہ ایسے لوگ ہیں اور جتنے میرے علم میں ہیں ان سے بھی زیادہ ہو نگے لیکن اس بات کو ماننے کے لئے میرا انفس تیار نہیں کہ اسی فیصدی ایسے ہیں۔لیکن اگر زیادہ بھی ہوں تو چونکہ ہمیں علم نہیں اور قرآن کریم کا حکم ہے لا تقفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم، یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ہمیں کوئی حق نہیں کہ ایسی بات کہیں۔میں اس بات سے بھی متفق نہیں ہوں کہ جو لوگ ایسے ہوں ان کے متعلق بھی یہ کہا جاسکتا ہو کہ وہ لوگ بے غیرت ہیں۔ہم صرف اس قدر کہنے کے حقدار ہوں گے کہ ان میں ایک گناہ پایا نی جاتا ہے لیکن اس کا یہ مفہوم نہیں کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت نہیں۔اس حقیقت کی کے ہوتے ہوئے بھی کہ اگر ان کے ماں باپ کو گالی دی جائے تو ان کو غصہ آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالی دی جائے تو نہیں آتا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ماں باپ کو گالی ملنے پر