خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 385

خطبات محمود ۳۸۵ سال ۱۹۳۸ء غصہ کا آنا محبت کا مقام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالی ملنے پر غصہ نہ آنا عدم محبت کا مقام ہے کیونکہ اگر کوئی شخص دو موقعوں میں سے ایک موقع پر کمزوری دکھاتا ہے تو ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم اس کمزوری والے موقع کو تو اس کی اصل حالت سمجھیں اور دوسری کو بناوٹ کہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بات اس کے الٹ ہو۔کوئی شخص کبھی جھوٹ بولتا ہے اور کبھی سچ۔تو ہمارا یہ حق نہیں کہ اس کے جھوٹ کو اس کی اصلی حالت قرار دیں۔اور سچ کو بناوٹ کہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کی اصلی حالت سچ بولنے کی ہی ہو اور جھوٹ وہ کبھی گھبراہٹ میں بول دیتا کج ہو اور جب یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں تو ہمارا حق کیا ہے کہ اس کی گناہ والی حالت کو اصل قرار دیں۔زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پتہ نہیں اس کی اصل حالت کیا ہے۔مزید دلائل ملیں تو پتہ لگے لیکن یہ حق ہمارا نہیں کہ اس کی کمزوری والی حالت کو درست سمجھیں اور اس سے مطالبہ کریں کہ فلاں موقع پر جو کمزوری تم نے دکھائی تھی۔وہی اب دکھاؤ۔ایک موقع پر ایک شخص چوری کرتا ہے اور دوسرے موقع پر نہیں کرتا تو کیا ہمارا حق یہ ہے کہ اسے کہیں دوسرے موقع پر بھی چوری کرو۔یا یہ حق ہے کہ ہم اسے یہ کہیں کسی موقع پر بھی چوری نہ کرو۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک شخص دو فعل کرتا ہے جن میں سے ایک شریعت کے خلاف ہے اور دوسرا مطابق۔تو ہم پر یہی واجب ہے کہ ہم اس سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ ہر موقع پر ہی شریعت کے مطابق کام کیا کرے۔سو ہماری نصیحت ایسے لوگوں کے لئے یہ ہوگی کہ اپنے کی اور اپنے رشتہ داروں کے متعلق گالیاں سن کر بھی صبر کرو جس طرح تم ان سے زیادہ محبوب حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کو گالیاں سن کر کرتے ہو۔اور ہم ان سے یہ نہیں کہیں گے کہ جس طرح ماں باپ کو گالی سن کر تمہیں غصہ آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوسن کر بھی اسی طرح کیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق گالی سن کر اس کا صبر کرنا نیکی ہے اور ماں باپ کے متعلق گالی سن کر لڑ پڑنا گناہ ہے اور ہمارا اس سے یہ مطالبہ کسی طرح جائز نہیں کہ دونوں موقعوں پر گناہ کرو بلکہ ہم یہی کہیں گے کہ دوسرے موقع پر صبر کرو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ماں باپ کے لئے تم کو غصہ آیا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کے لئے کیوں نہیں آتا بلکہ اس کی غیرت کو چی