خطبات محمود (جلد 19) — Page 383
خطبات محمود ۳۸۳ سال ۱۹۳۸ء ہے۔حضرت خلیفہ مسیح کو ( نَعُوذُ بِالله ) ضرور سزا ہونی چاہئے۔اس میں کیا شک ہے کہ وہ لوگوں کو جوش تو دلاتے رہتے ہیں۔وہ شخص انجمن کا ملازم ہے، قادیان میں رہتا ہے اور بظاہر ہمارے ساتھ ہے مگر دل اس کا آتش کینہ سے پکھل رہا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح ان کو سزا ہو تو میرا دل ٹھنڈا ہو۔یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کی خواہش کو پورا نہ ہونے دیا۔پس ایسے لوگ بھی جماعت میں ہیں جن کو ہماری ہر کامیابی تیر کی طرح لگتی ہے لیکن جب کوئی ابتلاء کا موقع آتا ہے تو وہ آنکھیں کھول کھول کر دیکھتے ہیں کہ کہیں سے روشنی نظر آتی ہے کی یا نہیں ، یعنی جماعت تباہ ہوتی ہے کہ نہیں، مگر یہ کہنا کہ ایسے لوگ اسی فیصدی ہیں بالکل غلط نے میرے علم میں ایسے لوگ دو درجن سے زیادہ نہیں ہوں گے جو مخر جین سے چھپ چھپ کر ملتے ہیں اور گلیوں میں ان کو سلام کہتے ہیں بلکہ اپنا راستہ چھوڑ کر ان سے ملنے کے لئے دوسری گلیوں میں پہنچتے ہیں۔ہمیں ان کا بھی علم ہے جو انہیں بٹالہ، امرتسر یا لاہور میں ملتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو ان کو غیرت دلاتے اور کہتے ہیں کہ تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ہمیں تو تم لوگوں سے بہت امیدیں تھیں گو مجھے اس بے شرمی کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ وہ کس منہ سے ان کو یہ کہتے ہیں کہ تم نے کچھ نہ کیا۔جن لوگوں سے یہ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ بھی کہتے ہوں گے کہ یہ شخص کیسا بے حیا ہے۔خود تو ان کے ساتھ بیٹھ کر روٹیاں تو ڑ رہا ہے اور ہمیں کہتا ہے کہ کچھ بھی نہیں کیا۔گویا خود بڑا تھیں مار خان ہے۔یاد رکھو کہ ہمارے حکم کے خلاف ان سے ملنا ہمارے ساتھ غداری ہے۔بظاہر ہمارے ساتھ مگر دل سے ان کے ساتھ رہنا خدا تعالیٰ سے غداری ہے اور ان لوگوں سے جو کم سے کم منہ سے تو ہمارا مقابلہ کرتے ہیں کہنا کہ تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ، ان لوگوں کے ساتھ بھی غداری ہے۔گویا ایسے لوگ انسانوں کے بھی ، خدا تعالیٰ کے بھی اور احمدیت کی مخالف طاقتوں کے بھی غدار ہیں۔یہ تینوں طرف سے لعنت کا مارا ہوا جسے جنت تو الگ دوزخ بھی حقارت سے دیکھتی ہے ، ہمارے مخالفوں سے مل کر کہتا ہے۔کہ تم نے تو کی کچھ بھی نہیں کیا۔گویا یہ خود بھی رستم کو شکست دے کر آیا ہے۔یہاں میں ایک اور غلطی کا ازالہ بھی ضروری سمجھتا ہوں۔بعض لوگوں نے میری طرف بات منسوب کی ہے کہ میں نے کہا ہے کہ قادیان میں پانسو منافق ہیں حقیقت یہ ہے کہ میں نے