خطبات محمود (جلد 19) — Page 342
خطبات محمود ۳۴۲ سال ۱۹۳۸ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔پس وہ خوشی منانے لگے۔لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا۔جب وہ آ کر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔اس نے اس سے کہا کہ تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا۔مگر اس کا باپ باہر جا کر اسے منانے لگا۔اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی منا تالیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال کسبیوں میں اڑا دیا تو اس کیلئے تو نے پلا ہوا کچھڑ ا ذ بح کیا۔اس نے اس سے کہا کہ بیٹا تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے۔اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادماں ہونا مناسب تھا۔کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا اب زندہ ہوا ، کھویا ہوا تھا ، اب ملا ہے۔کے اس میں حضرت مسیح علیہ السلام بتاتے ہیں کہ اے لوگو! جو گنہگا رتو بہ کر کے اللہ تعالیٰ کے پاس آجاتا ہے وہ اس کیلئے ویسی ہی خوشی دکھاتا ہے جیسی اس باپ نے دکھائی تھی اور یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کی نہایت لطیف مثال ہے۔لوگ آنے والے کو طعنہ دیتے ہیں کہ جھک مار کر واپس آگیا اور کہتے ہیں کہ کم بخت جب طاقت اور ہمت تھی اس وقت تو ساتھ نہ دیا اور اب آیا ہے لیکن جب کوئی گنہ گار تو بہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور آئے تو وہ اسے یاد بھی نہیں دلا تا کہ تم نے کیا کیا قصور کئے تھے بلکہ خوش ہوتا ہے کہ اس کا کھویا ہو ا بندہ واپس آیا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس کا نام غفار، ستار اور مُكَفِّرْ عَنِ السَّيِّئَاتِ آیا ہے۔غفار کے معنے ہیں کہ وہ معاف کر دیتا ہے اور سزا نہیں دیتا۔ستار کے معنے ہیں کہ وہ بندے کے گناہوں کو بعد میں بھی یاد نہیں دلاتا۔اور مکفر کے معنے ہیں کہ مستقبل میں گناہوں کے بد نتائج کو بھی مٹا ڈالتا ہے۔مثلاً ایک شخص نے ایسی روٹی کھائی کہ جس کے نتیجہ میں اس کے پیٹ میں درد ہونے والا ہے تو وہ اگر تو بہ کرے تو خدا تعالیٰ ان نتائج کو مٹا دیتا ہے جو اس روٹی سے نکلنے والے تھے اور