خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 341

خطبات محمود ۳۴۱ سال ۱۹۳۸ء پس مت خیال کرو کہ جو گزشتہ سالوں میں اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکے ان کیلئے رحمت کی کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔جو شخص نیکی کو شروع کر کے آخر تک لے جاتا ہے یا جو درمیان سے شامل ہو کر آخر تک ساتھ جاتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔نا کام وہی ہوتا ہے جو رستہ میں چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ تم نے ہمیں چھوڑ دیا اس لئے ہم تمہیں چھوڑتے ہیں۔مگر جو دیر سے آتا ہے اور تو بہ کرتا اور کوشش کرتا تج ہے کہ خدا تعالیٰ سے مل سکے وہ ضائع نہیں کیا جاتا۔حضرت مسیح ناصری نے اس کیلئے کیا اچھی کی مثال دی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : - کسی ایک شخص کے دو بیٹے تھے۔ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ مال کا حصہ جو مجھے پہنچتا ہے مجھے دے۔اس نے مال انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اُڑا دیا۔اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔پھر اس ملک کے ایک باشندے کے ہاں جا پڑا۔اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سو رکھاتے تھے انہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔پھر اس نے ہوش میں آ کر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اے باپ ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگالیا اور بوسے لئے۔اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جا مہ جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔کیونکہ یہ میرا بیٹا مر وہ تھا اب زندہ ہوا،