خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 320

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء ضرورت ہوتی ہے۔بعض دفعہ علماء کی تائید کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض دفعہ خلفاء کی تائید کی تی ضرورت ہوتی ہے، بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، بعض دفعہ قرآن کریم کی تائید کی ضرورت ہوتی ہے اور جو بالکل کو را ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی بھی نہیں مانتا مگر وہ نہ ہمارا ہے نہ خدا کا بلکہ شیطان کا غلام ہے۔جس نے اس کی روحانیت کو بالکل سلب کر لیا ہے۔ایسے کئی آدمی کی ہوتے ہیں جنہیں احمدیت کی تبلیغ جس وقت کی جاتی ہے تو وہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اگر خدا کی بھی آسمان سے اتر کر ہمیں کہہ دے کہ مرزا صاحب بچے ہیں تو ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ایسے آدمیوں کا کوئی علاج نہیں ہوتا مگر جو دوسرے لوگ ہیں ان کو سمجھانے کی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر کوئی شخص محض اس وجہ سے احکام مان لینے کا عادی ہے کہ ان سے دنیا میں صداقت کا قیام ہوتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس پر یہ امر واضح کر دیں کہ ان حکموں کے نتیجہ میں دنیا میں سچائی قائم ہوگی۔اگر کوئی علماء کی تائید چاہتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس کے سامنے علماء کے اقوال پیش کریں ، اگر کوئی خلفاء کی تائید چاہتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس کے سامنے خلفاء کے اقوال پیش کریں اور اگر کوئی اس سے بھی بڑھ کر محبت چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تائیدی ارشادات کہاں ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کے احکام اس کے سامنے پیش کریں اور اگر کوئی اس سے بھی بڑھ کر حجت چاہتا ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اس کے سامنے رکھیں اور اگر کوئی اس سے بھی بڑھ کر حجت چاہتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے سامنے خدا تعالیٰ کے اوامر پیش کریں اور اس میں ہمارا کوئی حرج نہیں کیونکہ یقینا سچائی کی تائید ہر صادق کے قول سے ملکی جائے گی۔پنجابی میں ایک مثل ہے کہ سو سیانے اگو مت“ عظمند خواہ سو ہوں اُن کا مشورہ ایک ہی ہو گا۔غرض جس رنگ میں بھی کوئی شخص مطمئن ہوسکتا ہے ہمارا کام ہے کہ اسی رنگ میں اسے مطمئن کریں۔اور جس میں کوئی بھی قابلیت نہ ہوگی اور جو نہ علماء کے اقوال سے مطمئن ہوگا نہ خلفاء کی ہدایات سے مطمئن ہوگا نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے مطمئن ہوگا نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے مطمئن ہوگا اور بالآخر خدا کے اوامر سے بھی مطمئن۔66