خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 319

خطبات محمود ۳۱۹ سال ۱۹۳۸ تو اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔پس اس قسم کی طبائع رکھنے والے لوگوں کو اگر یہ بتایا جائے کہ فلاں مشہور عالم نے یہ کہا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں اچھا تب تو عمل کرنا ضروری ہوا۔مگر کچھ لوگ ان سے بھی کم ایمان کے ہوتے ہیں وہ کسی بہت بڑے آدمی کی گواہی چاہتے ہیں اور کہتے ہیں اگر خلیفہ وقت کہے گا تو ہم مانیں گے ، وہ نہیں کہے گا تو کسی دوسرے کی بات ہم نہیں مان سکتے۔ایسے لوگوں کو اگر خلیفہ وقت کا حکم سنا دیا جائے تو ان کی تسلی ہو جاتی ہے لیکن بعض لوگ اور بھی ضدی ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں ایسا حکم دیا ہے یا نہیں۔ایسے لوگوں کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام بتائے جائیں۔جب وہ یہ ارشادات سنتے ہیں تو ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں اور وہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جب بانی سلسلہ احمدیہ نے یہی تعلیم دی ہے تو لازماً ہمارا فائدہ بھی اس تعلیم پر عمل کرنے میں ہے مگر کچھ طبیعتیں اس سے بھی اوپر جانا چاہتی ہیں اور وہ کہتی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع تھے ہمیں یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں ایسا حکم دیا ہے۔ایسے لوگوں کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام احادیث سے نکال کر بتائے جائیں۔جب ان کے سامنے یہ احکام رکھے جاتے ہیں تو کہتے ہیں بہت اچھا۔اب تو عمل کرنا ضروری ہوا مگر کچھ طبائع یہاں آکر بھی ضد کرتی ہیں اور کہتی ہیں کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری طرح ایک انسان تھے تم یہ بتاؤ کہ قرآن میں کہیں خدا نے یہ حکم دیا ہے یا نہیں۔پس ایسے لوگوں کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ قرآن سے احکام پیش کئے جائیں۔غرض چونکہ دنیا میں مختلف طبائع ہیں اس لئے ہمیں ہر طبیعت اور ہر مذاق کے انسان کا علاج سوچ لینا چاہئے۔جو خالص نیک فطرت آدمی ہو اس کے لئے صرف اتنا کہنا ہی کافی ہوتا کی ہے کہ میاں یہ بات تمہارے فائدہ کیلئے ہے اور صداقت کے قیام کیلئے تمہارا اس پر عمل کرنا ضروری کی ہے۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ بات کسی عالم نے کہی ہے یا خلیفہ وقت نے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہی ہے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔بے شک وہ علمی تحقیق بھی کرتا ہے مگر اس کا نفس نیکی کو دیکھ کر ہی اس کی طرف راغب ہو جاتا ہے مگر دوسروں کیلئے مؤیدات کی