خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 321

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء نہیں ہوگا وہ ہمارا آدمی ہی نہیں کیونکہ ہمارا دائرہ تو خدا تک چلتا ہے۔پنجابی کی ایک مثل ہے۔کہتے ہیں ”ملاں دی دوڑ مسیت تک۔ہماری بھی آخری دوڑ خدا تک ہے جو خدا تعالیٰ کی بات بھی نہ سنے تو ہم اسے کہہ دیں گے کہ میاں تمہارا راستہ اور ہے اور ہمارا اور۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوست بھی تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے بھی دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور چونکہ وہ وہابی تھے اس لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بڑی مدد کیا کی کرتے تھے۔ایک دفعہ مولوی صاحب لدھیانہ کے قریب ایک شہر میں گئے اور انہوں نے وہابیت کی تبلیغ شروع کر دی پھر ایک جلسہ کیا جس میں ان کے خلاف زبردست تقریر کی۔حنفیوں نے پولیس میں رپورٹ کر دی کہ مولوی صاحب کی تقریر سے فساد کا سخت خطرہ ہے۔یہ حنفیوں کو گالیاں نکال رہے ہیں اور اگر انہیں روکا نہ گیا تو آپس میں فساد ہو جائے گا اور کشت و خون تک نوبت پہنچ جائے گی۔مولوی صاحب تو گھبرا گئے مگر یہ صاحب باوجود ناخواندہ ہونے کے ذہین تھے، کہنے لگے مولوی صاحب آپ جائیں، ان لوگوں کو میں سنبھال لوں گا۔چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر کا اعلان کیا اور کچھ دوستوں کو مقرر کر دیا کہ تھانہ کا خیال رکھنا۔اگر لوگ شکایت کریں اور پولیس آئے تو مجھے اطلاع کر دینا پھر میں دیکھوں گا وہ کس طرح میرے خلاف کوئی بات کرتی ہے۔انہوں نے پہلے یہ پتہ لگا لیا تھا کہ تھانیدار سکھ ہے۔چنانچہ وہ حنفیوں کے خلاف زبر دست تقریر کرتے رہے۔اسی دوران میں ایک آدمی دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا تھانیدار صاحب آ رہے ہیں۔وہ کہنے لگے کوئی پرواہ نہیں۔وہ تقریر اسی موضوع پر کر رہے تھے کہ اہلحدیث میں کیا کیا خوبیاں ہیں۔مگر چونکہ لوگوں میں مخالفت کا سخت جوش تھا اسی لئے تھانے میں انہوں نے رپورٹ یہ درج کرا دی کہ انہیں روکا جائے ورنہ خون ہو جائے گا کیونکہ یہ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں۔جیسے آجکل ہمارے خلاف لوگ حکوت کو مشتعل کرنے کیلئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں، انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں اور بزرگوں کی توہین کرتے ہیں۔انہوں نے بھی پولیس کے پاس اسی رنگ میں رپورٹ کی اور تھانیدار صاحب پولیس کی گارد لے کر پہنچ گئے۔جس وقت انہیں پتہ لگا کہ تھانیدار صاحب لیکچر گاہ میں