خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 229

خطبات محمود ۲۲۹ سال ۱۹۳۸ء تو کیا تم میں سے کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ وہ یزید ہونے کو پسند کرے گا ؟ جس دن حضرت امام حسین شہید ہوئے وہ کس قدر غرور اور فخر کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھتا ہوگا اور اپنی کامیابی پر کس قدر نازاں ہو گا لیکن آج اگر اُسے اختیار دیا جائے کہ وہ امام حسین کی جگہ کھڑا ہونا چاہتا ہے یا یزید کی جگہ تو وہ بغیر ایک لمحہ کے توقف کے کہہ اُٹھے گا کہ میں دس کروڑ دفعہ امام حسین کی جگہ کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔اور اگر حضرت امام حسینؓ سے کہا جائے کہ وہ یزید کی جگہ ہونا پسند کریں گے یا اپنی جگہ؟ تو وہ بغیر کسی لمحہ کے توقف کے کہہ اُٹھیں گے کہ دس کروڑ دفعہ اُسی جگہ پر جہاں وہ پہلے کھڑے ہوئے تھے۔کسی اور سے فیصلہ کرانے کی ضرورت نہیں اگر یزید خود آئے تو اُس کا اپنا کی فیصلہ بھی یہی ہوگا۔فرعون اپنے زمانہ حکومت میں حضرت موسیٰ کو کیا سمجھتا ہوگا۔وہ ہنستا اور کہتا تھا کہ یہ شخص پاگل ہے، اس کا دماغ خراب ہے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے۔لیکن اگر آج فرعون کی روح دوبارہ دنیا میں لائی جائے تو بتاؤ کیا وہ اسی تخت پر بیٹھنا پسند کرے گا یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ادنی خادموں میں کھڑا ہونا۔وہ بغیر ایک لمحہ کے سوچنے کے کہہ اٹھے گا کہ میں موسیٰ کے ادنی ترین خادموں میں کھڑا ہونا زیادہ پسند کرتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام کو جن کی لوگوں نے پھانسی دی وہ افسر اور وہ مجسٹریٹ جس نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص حکومت کا مخالف اور لائق تعزیر ہے اور وہ علماء جنہوں نے یہ کہا کہ یہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے ، اگر آج انہیں دوبارہ دنیا میں لایا جائے اور پوچھا جائے کہ بقول ان کے وہ ذلیل ماچھی جو اُس وقت حضرت عیسی کے ساتھ تھے، ان کے ساتھ کھڑا ہونا وہ زیادہ پسند کریں گے یا اس بات کو کہ ان کو روم کا شہنشاہ بنا دیا جائے۔تو وہ ایک منٹ کیلئے بھی غور کئے بغیر کہہ اُٹھیں گے کہ وہ ان ماچھیوں کی رفاقت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔آج پیٹر اور یعقوب کے نام پر کروڑوں عیسائی جان دینے کیلئے تیار ہیں مگر اُس زمانہ کے گورنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو کوئی جانتا بھی نہیں۔پس تم میں سے بھی جو حزب اللہ میں اپنے آپ کو شامل کر لے گا اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کی ویسی ہی مدد کرے گی۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کے