خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 228

خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۳۸ء حضرت نوح علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیلئے مخصوص ہے۔نبوت اور چیز ہے اور یہ مقام اور چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید حاصل کرنے کیلئے نبوت شرط نہیں بلکہ یہ کامل مؤمن کو حاصل ہو سکتی ہے۔دیکھو حضرت امام حسین نبی نہ تھے اور بظاہران کو یزید کے مقابلہ میں شکست بھی اٹھانی پڑی۔یزید اُس وقت تمام عالم اسلامی کا بادشاہ تھا اور اُس وقت چونکہ تمام متمدن دنیا پر اسلامی حکومت تھی اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ تمام دنیا کا بادشاہ تھا اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک دنیا پر اُس کے رشتہ داروں کی حکومت رہی اور اُس وقت منبروں پر حضرت علی اور آپ کے خاندان کو گالیاں دی جاتی تھیں، یزید کو اتنی بڑی حکومت حاصل تھی کہ آجکل کسی کو حاصل نہیں۔آج انگریزوں کی سلطنت بہت بڑی سمجھی جاتی ہے مگر ذرا مقابلہ تو کریں بنوامیہ کی حکومت سے جن کے خاندان کا ایک فرد یزید بھی تھا۔انگریزوں کی حکومت کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔فرانس سے شروع ہو کر سپین ، مراکو، الجزائر ، طرابلس اور مصر سے ہوتی ہوئی عرب، ہندوستان ، چین ، افغانستان، ایران ، روس کے ایشیائی حصوں پر ایک طرف اور دوسری طرف ایشیائے کو چک سے ہوتے ہوئے یورپ کے کئی جزائر تک بہ حکومت پھیلی ہوئی تھی۔اس قدر وسیع سلطنت آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔موجودہ زمانہ کی دس پندرہ سلطنتوں کو ملا کر اس کے برابر علاقہ بنتا ہے اور اتنی بڑی سلطنت کا ایک بادشاہ ہوتا تھا جن میں سے قریباً ہر ایک حضرت علی اور آپ کے خاندان کو اپنا دشمن سمجھتا تھا اس لئے منبروں پر کھڑے ہو کر ان کو گالیاں دی جاتی تھیں۔اُس وقت کون کہ سکتا تھا کہ ساری دنیا میں امام حسین کی عزت پھر قائم ہوگی اور اُس وقت کوئی وہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یزید کو بھی لوگ گالیاں دیا کی کریں گے مگر آج نہ صرف تمام اس علاقہ میں جہاں امام حسین کو گالیاں دی جاتی تھیں بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی کیونکہ بعد میں اسلامی حکومت اور بھی وسیع ہوگئی تھی گو وہ ایک بادشاہ کے ماتحت نہ رہی سب جگہ یزید کو گالیاں دی جاتی ہیں اور حضرت امام حسین کی عزت کی جاتی ہے۔گو آپ نبی نہ تھے ، صرف ایک برگزیدہ انسان تھے اور حق کی خاطر کھڑے ہوئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی دی۔بظاہر دشمن یہ سمجھتا ہوگا کہ اُس نے آپ کو شہید کر دیا مگر آج اگر یزید دنیا میں واپس آئے (اگر چہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں کہ مردے دنیا میں واپس آئیں )