خطبات محمود (جلد 19) — Page 230
خطبات محمود ۲۳۰ سال ۱۹۳۸ء۔بعض مجسٹریٹ جماعت کے خلاف بہت بُرے ریمارکس کرتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے ہی ریمارکس حضرت عیسیٰ اور حضرت موسی علیھما السلام کے زمانہ میں ہوتے تھے۔رسول کریم ا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسی باتیں کہی جاتی تھیں لیکن انہی بادشا ہوں اور گورنروں کی اور افسروں کو اگر سو دو سو سال بعد دنیا میں لایا جائے تو یہی کہیں گے کہ وہ باتیں سب جھوٹ تھیں اور ہمیں اس سلسلہ کی ادنی خدمت ہی زیادہ پسند ہے۔جھوٹ خواہ کسی بادشاہ کی زبان سے نکلے یا وزیر کی زبان سے ، خواہ کسی وائسرائے کی زبان سے نکلے یا گورنر کی زبان سے آخر جھوٹ ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ظلم کبھی کسی کو عزت نہیں دے سکتا اس لئے اگر تم اپنے اندر سے ظلم کو نکال دو اور حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ تو تمہیں کوئی خفیہ تدبیریں اور منصوبے جیسے آج بعض حکام کی مدد سے کئے جار ہے ہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔یہ سب جھاگ ہے اور جھاگ ہمیشہ مٹ جاتی ہے اور پانی قائم رہتا ہے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ تم حزب اللہ بن جاؤ۔اسلام اور اللہ تعالیٰ کی محبت، نیکی ، سچائی ، ہمت اپنے دلوں میں پیدا کر لو، دنیا کی بہتری کی ج کوشش میں لگ جاؤ اور بنی نوع کی خدمت کا شوق اپنے دلوں میں پیدا کرو، اسلام کا کامل نمونہ بن جاؤ پھر خواہ دنیا تمہیں سانپ اور بچھو بلکہ پاخانہ اور پیشاب سے بھی بدتر سمجھے تم کامیاب ہو گے اور خواہ کتنی طاقتور حکومتیں تمہیں مٹانا چاہیں وہ کامیاب نہیں ہوسکیں گے اور تم جو آج اس قدر کمزور سمجھے جاتے ہو تم ہی دنیا کے روحانی بادشاہ ہو گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو دنیا کی بادشاہت مل جائے گی بلکہ میں تو یہ بھی نہیں کہتا کہ تم تحصیلدار بن جاؤ گے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ میں یہ بھی نہیں کہتا تم ایک کانسٹیبل ہی بن جاؤ گے۔ظاہری حیثیت خواہ تمہاری چپڑاسی سے بھی بدتر ہو مگر دنیا پر قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تم کو بادشاہوں سے بڑا اور تم پر ظلم کرنے والوں کو ادنی نوکروں سے بھی بدتر نہیں بنا دیا جائے گا۔قرآن کریم یہی بتا تا ہے کہ تم پر ظلم کرنے والوں کو جب تک ذلیل ترین وجودوں کی شکل میں اور تم کو معزز ترین صورت میں پیش نہ کیا کہ جائے ، قیامت قائم نہیں ہو گی۔بے شک تم مر چکے ہو گے بلکہ تم میں سے بعض کی نسلیں بھی باقی نہ ہوں گی مگر نیک نامی کے مقابلہ میں نسلیں چیز ہی کیا ہیں۔آج یہ بحث ہوتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی اولاد تھی یا نہیں۔لیکن کیا ان کی اولاد کی