خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 191

خطبات محمود ۱۹۱ سال ۱۹۳۸ رگ وید تو ایسے احکام سے بھرا پڑا ہے۔پس ویدوں کے زمانہ میں جو لڑائیوں کے احکام دیئے گئے ان سے جو یہ غلط فہمی پیدا کی ہو گئی تھی کہ ویدوں کو تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے اس کے ازالہ کیلئے رام چندر جی آئے اور کرشن جی سے ہم ایک نیا دور فرض کر لیں گے۔بہر حال جلالی اور جمالی نبیوں کی ترتیب جو میرا اصل مقصود تھا اُس میں ان دو بزرگوں کے زمانہ کے مقدم و مؤخر ہو جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کے بعد میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جب میں نے یہ اعتراض سُنا تو میں نے محسوس کیا کہ میں نے جو بات کہی تھی وہ قیاس نہ کہی تھی بلکہ کسی سابق مطالعہ کے اثر کے ماتحت کہی تھی اور یہ کہ ضرور اس خیال کی بنیاد کسی تاریخی تحقیق پر مبنی تھی اور اس خیال سے میں نے بعض کتب خود دیکھیں اور بعض اور دوستوں سے بھی مدد لی اور آخر وہ خیال میرا درست نکلا کہ میرے بیان کا ما خذ تاریخی کتب میں موجود ہے اور اس تحقیق کے نتیجہ میں مجھے معلوم ہوا کہ موجودہ محققین میں سے بعض نے زبان کی بنیاد پر اور جغرافیائی واقعات پر یہ دعوی کیا ہے کہ کرشن جی پہلے آئے ہیں اور رام چندر جی بعد میں۔یہ نتیجہ انہوں نے دو قسم کی تحقیقات کے نتیجہ میں نکالا ہے۔ان کے دعویٰ کی ایک تو اس امر پر بنیاد ہے کہ رام چندر جی کے متعلق جولٹریچر ہے وہ ویدوں کے علوم کے جس دور سے تعلق رکھتا ہے وہ بعد میں ہوا ہے۔شاید صحیح تلفظ میں ادا نہ کرسکوں کیونکہ وہ ہندی لفظ ہے لیکن بہر حال اس کا نام وہ سوتر رکھتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ سوتر قسم کا لٹریچر جو ویدوں کے متعلق ہے اور جو اختصار نویسی پر مشتمل ہے بعد کا ہے اور والمیک جو رامائن کے مصنف ہیں ان کا تعلق اسی لٹریچر سے ہے لیکن بیاس جی جو مہا بھارت کے مصنف سمجھے جاتے ہیں ان کا تعلق اس لٹریچر سے ہے جو رزمیہ کہلاتا ہے اور تفصیل اور اطناب کی طرف مائل ہے۔پس وہ کہتے ہیں کہ گو ہندو تاریخ کرشن جی کو بعد کا قرار دیتی ہے لیکن علم ادب کی زمانی قسموں کے لحاظ سے چونکہ مہا بھارت پہلے زمانہ کے علم ادب میں لکھی ہوئی ہے اور رامائن بعد کے زمانہ کی اور چونکہ اس زمانہ میں کتب پہلے لکھی نہ جاتی تھیں بلکہ عام گیتوں کے طور پر پہلے زبانوں پر جاری ہوتی تھیں اور پھر لکھی جاتی تھیں اس لئے نتیجہ نکلتا ہے کہ مہا بھارت کے واقعات لوگوں میں پہلے مشہور تھے اور رامائن کے واقعات کا چرچا بعد میں ہوا۔پس مہا بھارت کے افراد