خطبات محمود (جلد 19) — Page 192
خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۸ پہلے گزرے ہیں اور رامائن کے افراد بعد میں گزرے ہیں۔اس تحقیق میں حصہ لینے والے صرف مغربی عیسائی مصنف ہی نہیں بلکہ ہندوستانی اور ہندوی محققین بھی ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر آئنگر اور رامیشور دت جیسے فاضل مصنفوں نے بھی اسی قسم کے نتائج نکالے ہیں۔ان دونوں ہندوستانی مصنفوں کی تحقیق کے مطابق مہا بھارت کے واقعات کا زمانہ بارہ سو قبل مسیح تھا اور رامائن کے واقعات کا زمانہ ساڑھے سات سو سے ایک ہزار قبل مسیح تک۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ دونوں واقعات میں وہ دوسو سے ساڑھے چار سو سال کا فاصلہ بتلاتے ہیں اور رامائن کے واقعات کو بعد میں اور مہا بھارت کے واقعات کو پہلے بتاتے ہیں جس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ وہ کرشن جی کو مقدم سمجھتے ہیں اور رام چندر جی کو بعد میں سمجھتے ہیں۔دوسری بات انہوں نے یہ پیش کی ہے کہ سنسکرت کے قدیم مصنف پانی نی کی تصنیف سے معلوم ہوتا ہے کہ مہا بھارت کے واقعات اُس وقت تک ہو چکے تھے اور رامائن کے واقعات کا اُس وقت تک کوئی نام نہ تھا کیونکہ اس کی تصنیف سے مہا بھارت کے واقعات کی طرف اشارہ ملتا ہے لیکن رامائن کے واقعات کا سُراغ نہیں ملتا۔دوسرا اصل بعض محققین نے جغرافیائی تحقیق کا کی بیان کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ مہابھارت میں بعض جغرافیائی کوائف ایسے بیان ہیں جو پہلے کے ہیں اور رامائن کے جغرافیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساتویں صدی قبل مسیح کے زمانہ کے قریب کے زمانہ کے حالات بیان کر رہی ہے۔ایک اور قرینہ بھی بعض لوگ بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ مہا بھارت میں جن پانڈوؤں کا ذکر آتا ہے ، ان پانڈوؤں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کی زرد قوم تھی اور زرد نسل چینی قو میں ہیں۔اور کوروں کی قوم جو ہے یہ آرین نسل ہے گومکسچر ہے۔یہ ظاہر ہے کہ شمالی ہند میں غیر آرین قوموں کی حکومتیں ابتدائی زمانہ میں تھیں۔بعد میں آریوں نے ان کو دبا لیا یا وہ آریوں سے مل گئیں یا فنا ہو گئیں لیکن رامائن کے زمانہ میں شمالی ہند کی کچ آریائی قوموں کا جنوبی ہند کی غیر آریائی قوموں سے ملاپ ظاہر ہوتا ہے جو بعد کے زمانہ میں ہوا۔کیونکہ آریہ لوگ جنوبی ہند کی طرف اُس وقت بڑھے ہیں جب شمالی ہند پر وہ فتح پاچکے تھے۔پس اس فرق کی وجہ سے بعض لوگ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مہا بھارت کے واقعات پہلے کے ہیں اور رامائن کے بعد کے۔