خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 19

خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۸ اور جب تک وہ یہ نہ کر سکے کسی دوسرے کی اصلاح کے قابل ہی نہیں ہوسکتا۔کسی نے کہا ہے آنانکه خود گم اند کجا رهبری کنند جو شخص خود گمراہ ہو وہ دوسروں کو کہاں ہدایت دے سکتا ہے۔دوسرے کو راستہ وہی دکھا سکتا ہے جو پہلے خود تلاش کرے اور جو شخص دوسرے کو گمراہی سے بچانے کیلئے آگے بڑھے گا اُس کی مخالفت بھی ہوگی اور لوگ اُس کے دشمن بنیں گے۔گو یہ الہی قانون ہے کہ ایسے لوگوں کو دشمنی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔مخالفوں کو عارضی طور پر خوش ہونے کا موقع تو مل سکتا ہے مگر حقیقی خوشی وہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ہماری جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد اس نکتہ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔یعنی یہ کہ سب سے پہلے ان کو اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے اور اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ ان کے اندر طاقت پیدا کر دے تو پھر کوشش کریں کہ دوسروں کو بچائیں اور اس کے ساتھ یہ بھی یادرکھیں کہ اس کے نتیجہ میں ان کی مخالفت لازمی طور پر ہوگی اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ان کے مخالف کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔بظاہر ان کو ذلت اور رسوائی بھی ہو سکتی ہے مگر انجام کا روہی کامیاب ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور اس کے بعد اس نے اپنے دل میں رجوع کیا اور اس وجہ سے میعاد مقررہ کے اندر اس کی موت نہ ہوئی تو لوگوں نے بڑی خوشیاں منائیں اور شور مچادیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔اُس زمانہ میں ریاست بہاولپور کے جو نواب تھے ، اُن کے پیر چاچڑاں والے بزرگ تھے۔ایک دن نواب صاحب کے دربار میں یہی ذکر ہورہا تھا کہ مرز اصاحب نے پیشگوئی کی تھی جو غلط نکلی اور اس پر لوگوں نے ہنسی اُڑانی شروع کی اور آہستہ آہستہ اہل مجلس کی باتوں سے متاثر ہو کر نواب صاحب بھی اس ہنسی میں شامل ہو گئے۔اُس وقت مجلس میں وہ بزرگ بھی بیٹھے تھے۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت عقیدت تھی اور انہوں نے حضور کو خط بھی لکھا تھا وہ پہلے تو خاموش رہے مگر جب دیکھا کہ نواب صاحب بھی ہنسی میں شریک ہو گئے ہیں تو اس لئے کہ وہ نواب صاحب کے پیر تھے اور سمجھتے تھے کہ مجھے ان کو اس طرح ڈانٹنے کا حق ہے، بڑے جوش سے فرمایا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟