خطبات محمود (جلد 19) — Page 20
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء دنیا کے اندھوں کو یہ نظر آتا ہے کہ آتھم زندہ ہے مگر مجھے تو اس کی لاش سامنے پڑی ہوئی نظر آ رہی ہے یعنی تم موت سے مراد ظاہری موت لیتے ہو اور یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ موت کیا ہے یہ تو ہر انسان کو آتی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی سے خوف کھا کر جو آتھم نے تو بہ کی اور رجوع کیا ، وہ جذبات کی موت تھی اور ظاہری موت سے زیادہ سخت تھی۔تو سلسلہ کی خدمت کرتے ہوئے بعض دفعہ ایسی بات پیدا ہو سکتی ہے جو بظاہر رُسوائی کا موجب ہو مگر عقلمند جانتے ہیں کہ دراصل وہ بھی دین کی نصرت کا موجب ہوتی ہے۔پس سب سے مقدم بات تو یہ ہے کہ اپنے نفسوں کی اصلاح کرو اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور اس طرح پھینک دو کہ اُس کی نصرت حاصل کر سکو اور اگر تم یہ کر لوتو دنیا کی کوئی طاقت کی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔مگر حالت یہ ہے کہ تم ہندو سے تو کہتے ہو کہ اسلام کی تعلیم افضل ہے مگر جب کوئی موقع پیدا ہوتا ہے تو تم جوش سے بھر جاتے ہو اور کہتے ہو کہ ایسے موقع پر اسلام کی کچ تعلیم ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی اور جب یہ حالت ہو تو خدا تعالیٰ کو تمہاری نصرت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ اگر تمہاری مدد کرتا ہے تو اس لئے نہیں کہ اس جماعت میں جو لوگ ہیں وہ اسے بہت پسند ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ جماعت دنیا میں اُن اصولوں کو قائم کرنے کیلئے کھڑی ہوئی ہے جنہیں قائم کرنا اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے۔اگر تم میں یہ خصوصیت نہ ہو تو پھر تمہارے متعلق بھی وہی عام قانون ہوگا کہ ایک پر دو بھاری ہوتے ہیں۔دور پر چار، سو پر دوسو ، ہزار پر دو ہزار اور لاکھ پر دولاکھ۔لیکن اگر تم خدا تعالیٰ کے اصولوں سے اپنے آپ کو اس طرح وابستہ کر لو کہ تم میں اور ان میں کوئی فرق نہ رہے۔تمہارے اندر تو حید ایسی نہ ہو جیسی دنیا دار لوگوں میں ہوتی ہے بلکہ ایسے موحد بن جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم مجسم تو حید ہو جاؤ اور تمہیں اور تو حید کو جدا نہ کیا جاسکے۔تو پھر اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری حفاظت کرے گا کیونکہ اس صورت میں تمہاری تباہی توحید کی تباہی کے مترادف ہوگی۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی چیز کے ساتھ برتن کو بھی بچایا جاتا ہے۔کسی پیسے میں گھی یا شہد بھرا ہوا ہو تو گو اُس پیپر کی قیمت دو چار آنے سے زیادہ نہیں ہوتی مگر اس گھی یا شہد کیلئے جو اس کے اندر ہے، انسان اس کی بھی حفاظت کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس میں سوراخ ہو گیا تو