خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 18

خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۳۸ء خیر خواہ ہو ممکن نہیں کہ دنیا اس کی دشمن نہ ہو۔ہاں الہی سلسلوں میں خدا تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ایسی دشمنیاں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اپنا دشمن نہیں ہوتا دنیا میں کوئی اُس کا دشمن نہیں ہوتا تو میری مراد اس سے یہی ہے کہ اس کے دشمن اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے دشمن دنیا میں ہوتے نہیں۔بیشک ان کے دشمنوں کو عارضی خوشیاں بھی کسی وقت نصیب ہو جاتی ہیں مگر حقیقی خوشی وہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے اور کوئی واقعہ بھی جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے دشمن ان کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔عارضی طور پر ان کو خوش ہونے کے موقعے مل سکتے ہیں۔جب وہ خیال کر لیتے ہیں کہ اب ہم اس جماعت کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر آخر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اپنی جماعت کی مدد کو بڑھتا اور اس کو بچالیتا ہے۔پس اس قانون کے ماتحت حقیقی خیر خواہی انسان کی اپنے نفس سے یہی ہوگی کہ بنی نوع کی خدمت کرے اور خاص کر مذہبی میدان میں خدمت کرے اور جب وہ خدمت کرے گا تو لازماً لوگوں کی غلطیوں سے بھی ان کو آگاہ کرے گا اور وہ چونکہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اس لئے ضرور اس کی مخالفت کریں گے اور اسے تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آئے اور لوگوں کی اصلاح کیلئے کھڑے ہوئے لیکن جن کی اصلاح کیلئے وہ کھڑے ہوئے تھے اُنہوں نے ہی اُن کو تباہ کرنا چاہا۔حضرت نوح علیہ السلام لوگوں کو بچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور جن کو بچانے کیلئے وہ کھڑے ہوئے تھے انہوں نے ہی ان کو تباہ کرنا چاہا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جن لوگوں کو بچانے کیلئے کھڑے ہوئے انہی لوگوں کی نے ان کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے تو ان کو بھی ان لوگوں کی نے جن کو بچانے کیلئے وہ کھڑے ہوئے تھے تباہ کرنا چاہا۔حضرت عیسی علیہ السلام آئے تا اپنی قوم کی کو ہلاکت سے بچائیں مگر اُن کی قوم نے ان کو ہلاک کرنا چاہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی کو بچانے کیلئے کھڑے ہوئے مگر لوگ ان کے دشمن ہو گئے اور ہر ممکن طریق سے ان کو نقصان پہنچانا چاہا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے مگر اپنی طرف سے انہوں نے کوئی کوتاہی نہ کی مگر یہ سب باتیں تبھی ہوسکتی ہیں جب انسان پہلے اپنے نفس کا خیر خواہ ہو۔