خطبات محمود (جلد 19) — Page 756
خطبات محمود ۷۵۶ سال ۱۹۳۸ء یہ یقین ہوگا کہ وہ کبھی زائل نہیں ہو سکتی۔پس موت کے وقت کی ایک منٹ کی خوشی بھی ساری زندگی کی خوشیوں سے ہزاروں گنے زیادہ خوشی کا موجب ہے اور اگر یہ خوشی کسی کو نصیب ہو جائے تو وہ نہایت اطمینان سے اپنی جان اپنے خدا کے سپر د کرے گا کیونکہ وہ سمجھے گا کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں کس قدر تکلیف اور دُکھ کی وہ موت ہے جس میں ایک طرف انسان اپنے بیوی بچوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ انہیں وہ اکیلا چھوڑے جا رہا ہے اور ان کا کوئی نگران و پُرسانِ حال نہیں اور دوسری طرف اسے خود یہ پتہ نہیں ہوتا کہ نہ معلوم میرے لئے دائمی آرام اور راحت کا سامان تیار ہے یا دائمی دُکھ اور عذاب کا سامان تیار ہے۔اس کی وہ گھڑیاں کتنے شک اور شبہ کی گھڑیاں ہوں گی اور وہ کس قدر دُکھ اور تکلیف محسوس کر رہا ہو گا۔جو شخص اس دُبد ہا اور شک کو دُور کر لے اُس سے زیادہ کامیاب اور اس سے زیادہ خوش نصیب کی اور کوئی نہیں ہوسکتا۔تو تحریک جدید بھی استقلال سکھانے کیلئے ہے اور رمضان بھی لوگوں کے اندر استقلال کا مادہ پیدا کرتا ہے۔پس تم رمضان سے سبق حاصل کرتے ہوئے استقلال والی نیکی اختیار کرو اور اپنی وہ حالت نہ بناؤ کہ کبھی کھڑے ہو گئے اور کبھی گر گئے۔کم سے کم چند نیکیاں تو اپنے اندر ایسی پیدا کرو جن میں تم مستقل ہو اور جن کو تم کسی صورت چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو۔بے شک انسان کیلئے ہر وقت نیکی کے قدم مختلف ہوتے ہیں اور ہر لحظہ اسے نیکی کرنی چاہئے مگر کم سے کم کچھ نیکیاں کی ایسی ضرور ہونی چاہئیں جن کے متعلق انسان یہ کہہ سکے کہ میں نے جب سے انہیں کرنا شروع کیا ہے کبھی انہیں نہیں چھوڑا۔ایک مؤمن کو کم سے کم یہ ضرور کہنا چاہئے کہ میں نے جب سے نماز پڑھنی شروع کی ہے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی ، میں نے جب سے روزے رکھنے شروع کئے ہیں کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا جو شرعی طور پر میرے لئے رکھنا ضروری تھا اور کبھی مالی قربانی کی سے احتراز نہیں کیا جس کا پیش کرنا میرے لئے ضروری تھا۔اسی طرح عورتیں بھی اپنے اندر کی استقلال والی نیکی پیدا کر کے کہہ سکتی ہیں کہ ہم نے ان دنوں کو مستثنی کرتے ہوئے جن میں شریعت نے ہمیں رخصت دی ہوئی ہے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی یا کبھی کوئی مالی قربانی کا موقع ایسا نہیں نکلا جس میں ہم نے حصہ نہ لیا ہو۔اگر کم سے کم یہ تین نیکیاں ہی انسان میں پیدا ہو جائیں