خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 755 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 755

خطبات محمود ۷۵۵ سال ۱۹۳۸ء چھت میں ایک رستہ لٹکا رکھا ہے جب نماز پڑھتے پڑھتے اسے نیند آنے لگتی ہے تو رسہ پکڑ کر کھڑا کی ہو جا تا ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ کوئی عبادت نہیں۔عبادت وہی ہے جس میں انسان کو دوام اور استقلال نصیب ہو تے پس بے شک تم میں سے بعض نے بڑی بڑی قربانیاں کیں مگر جب تم نے ان قربانیوں کے بڑے بڑے نتائج نہیں دیکھے تو سمجھ لو کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ تم میں استقلال نہیں تھا جس کے معنی یہی ہیں کہ تم میں حقیقی محبت نہ تھی۔ورنہ اگر تمہارے اندر حقیقی محبت ہوتی تو یقیناً تمہاری نمازیں اور تمہارے روزے اور تمہاری زکوتیں کی اور تمہارے حج اور تمہارے چندے بہت زیادہ شاندار اور اعلی نتائج پیدا کرتے اور تم اپنی موت سے پہلے اپنے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتے اور تمہاری موت شبہ کی موت نہ ہوتی بلکہ مرتے وقت انتہائی راحت اور آرام کی گھڑی تمہیں نصیب ہوتی۔موت کیا ہے؟ ایک نہایت ہی خطرناک راہ۔جس طرح ایک اندھیرے کنویں میں چھلانگ لگانے والا یہ نہیں جانتا کہ اس کنویں کی تہہ میں سانپ یا بچھو ہیں یا آراستہ و پیراستہ محلات۔اسی طرح مرنے والا نہیں جانتا کہ موت کے بعد اس کے لئے آرام دہ زندگی اس کا انتظار کر رہی ہے یا تکلیف اور مصیبت کی گھڑیاں اسے اپنی طرف بلا رہی ہیں۔وہ چھلانگ لگاتا ہے مگر ایک گھنٹہ کے لئے نہیں ایک دن کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے۔وہ جانتا ہے کہ اس موت کے بعد اس کے لئے کوئی کو ٹنا نہیں۔وہ جانتا ہے کہ پھر کبھی وہ اِس جہان میں واپس نہیں آسکتا۔پس اگر اس موت کے بعد عذاب ہے تو ہمیشہ کے لئے عذاب ہے اور اگر اس موت کے بعد راحت ہے تو ہمیشہ کے لئے راحت ہے۔اس بات کو جانتے ہوئے وہ چھلانگ لگاتا ہے اور وہ بھی خود نہیں بلکہ اُسے مجبور کیا جاتا ہے کہ اس میں گو دے۔پس جب وہ انسانی نظروں سے ہمیشہ کے لئے پوشیدہ ہو رہا ہوتا ہے، جب وہ اس جہان کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ رہا ہوتا ہے اگر اُس وقت جیسا کہ قرآن کریم میں ذکر آتا ہے فرشتے آئیں اور اسے کہیں کہ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ تمہارا انتظار کر رہا ہے تو دیکھو اس کی موت کی گھڑی کی خوشی سے کس قدر لبریز ہو جائے گی۔یقیناً اُس وقت کی خوشی کے مقابلہ میں اگر سارے جہان کی خوشیاں بھی ملا کر رکھ دی جائیں تو وہ بالکل بے حقیقت ہوں گی کیونکہ دنیا میں ہر خوشی کے ساتھ یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ یہ خوشی جلد ہی زائل ہو جائے گی مگر وہ خوشی ایسی ہے جس کے متعلق ا۔ނ