خطبات محمود (جلد 19) — Page 757
خطبات محمود ۷۵۷ سال ۱۹۳۸ء مثلاً عبادت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھنا ، مالی خدمات کے ذریعہ مخلوق خدا کو ی نفع پہنچانا اور روزہ کے ذریعہ اپنے جذبات اور احساسات کی قربانی کرنا تو وہ کہ سکتا ہے کہ تین ایسی عظیم الشان نیکیاں مستقل طور پر میرے اندر پائی جاتی ہیں جن کے ہوتے ہوئے کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ میرے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں۔میں نے اپنی مرضی اور اختیار سے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی ، میں نے اپنی مرضی اور اختیار سے کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا اور کبھی کوئی چندہ کا ایسا موقع نہیں نکلا جس میں میں نے حصہ نہیں لیا۔اگر ان تینوں نیکیوں پر کسی شخص کا کی قدم مضبوطی سے قائم ہو اور باقی نیکیوں میں اس کا قدم کبھی ڈگمگا بھی جائے تو کم سے کم وہ یہ کی ضرور یقین رکھے گا کہ میرا ان تین نیکیوں کے عوض جنت میں مکان ضروری ہے اور کوئی نہ کوئی ٹھکانہ میرا وہاں موجود ہے کیونکہ ہر مستقل نیکی جنت کا ایک مکان ہے۔بے شک وہ شخص بہت زیادہ خوش قسمت ہے جس کے جنت میں کئی محل ہوں مگر جس کا ایک محل ہو وہ بھی تو خوش قسمت کی ہے۔دنیا میں ہزار ہا نیکیاں ہیں جن کا استقلال سے بجالا نا جنت میں مختلف محلات تیار کر دیتا ہے مگر ادنی نیکی یہ ہے کہ روزہ کے ذریعہ اپنے جذبات کا ہد یہ اللہ تعالی کے حضور پیش کیا جائے ، نماز کے ذریعہ اس کے قُرب کو تلاش کیا جائے اور مالی قربانیوں کے ذریعہ بنی نوع انسان کے حقوق ادا کئے جائیں۔اگر کوئی شخص استقلال کے ساتھ بغیر ناغہ، بغیر وقفہ، بغیر تنزل اور بغیر قدم ڈگمگانے کے یہ نیکیاں کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے تو ہم اس کے متعلق یقین کر سکتے ہیں کہ اس کے نفس کی کو اطمینان حاصل ہو گیا اور اس کی موت کی گھڑیاں دُبر ہا اور شک کی گھڑیاں نہیں ہونگی۔یہ تین زبر دست شاہد ہیں جو ایک انسان کے ایمان کی شہادت دینے کیلئے کافی ہیں۔دُنیوی عدالتوں میں بعض جگہ دو اور بعض جگہ چار گواہ کافی سمجھے جاتے ہیں، الہی عدالت میں بھی ان تین گواہوں کی گواہی رد نہیں کی جاسکتی بلکہ اگر ان کے ساتھ کوئی چوتھی نیکی بھی ملالی جائے تو یقیناً وہ کی اللہ تعالیٰ کی محبت کا وہ بہترین ثبوت پیش کرے گا جو کسی قضاء میں خطا نہیں جاتا اور کہیں نا کام کی نہیں ہوتا۔تیسر اسبق ہمیں رمضان سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ کوئی بڑی کامیابی بغیر مشقت برداشت کئے حاصل نہیں ہو سکتی۔جس کا اظہار تعلّكم تتقون کے میں کیا گیا ہے۔گویا رمضان جہاں