خطبات محمود (جلد 19) — Page 718
خطبات محمود ZIA سال ۱۹۳۸ دوست کی خیر خواہی نہیں بلکہ اس سے دشمنی کے مترادف ہے۔دوست کے ساتھ سچی ہمدردی یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ غلطی پر ہو تو اسے یہ مشورہ دیا جائے کہ اپنی غلطی کا اقرار کر لو۔یہ قدم اٹھاؤ تو تم دیکھو گے کہ تمہارے لئے دنیا کی کوئی مصیبت باقی نہیں رہے گی اور تمہارے اندر ایسی دلیری پیدا ہو جائے گی جو ہر مخالفت کو ایک زبردست دریا کی طاقت کے ساتھ کس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔جھوٹ ہمیشہ بزدلی پیدا کرتا ہے۔اگر تم نے کسی کو پیٹا ہے تو بعد میں جھوٹ سے کام نہ لو۔اگر شریعت تمہیں اس کو پیٹنے کا حق دیتی ہے تو اس کا اقرار کرو بلکہ یہ بھی کہو کہ میں پھر بھی ایسا ہی کروں گا لیکن اگر شریعت اجازت نہیں دیتی تو اقرار کرو کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے خواہ اس کا انجام کچھ ہو۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ تم قید ہو جاؤ گے لیکن تم اس زندگی میں قید سے ڈرتے ہو اور خدا تعالیٰ کی قید کا تمہیں کوئی خوف نہیں۔غرض تم سے جو فعل بھی سرزد ہو اس کا صاف طور پر اقرار کرو اور اگر شریعت تمہیں اس کا حق کی دیتی ہے تو کہہ دو کہ ہم آئندہ بھی اس حق کو استعمال کریں گے لیکن اگر ایسا کرنے کا تمہیں حق نہیں کی تو اپنی غلطی کا اقرار کرو۔قضاء میں کئی مقدمات آتے ہیں۔ایک احمدی احمدی سے لڑتا ہے یا اسے گالی دیتا ہے۔اسے چاہئے تو یہ کہ جس قدر قصور ہوا ہے اس کا اقرار کرے لیکن کئی احمدی اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ اقرار جرم کے نتیجہ میں اگر کچھ جرمانہ ہو جائے گا یا چند روز کے لئے مقاطعہ ہو جائے گا تو کیا ہے۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں تھوڑے سے جرمانے یا چند روز کے مقاطعہ سے دوزخ میں جانا زیادہ آسان ہے۔اگر وہ غور کریں تو یہاں کی سزا تو عین رحمت ہے وہ اسے کیوں عذاب سمجھتے ہیں۔اگر وہ خیال کرتے کی ہیں کہ مقاطعہ کی وجہ سے لوگوں میں ان کی سبکی ہوگی تو کیا اس وقت ان کی سبکی نہ ہوگی جب ان کے آباء واجداد اور ان کے بیٹوں، پوتوں اور پڑپوتوں کے سامنے انہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا۔اگر وہ غور کریں تو یہ دنیوی سزا ایک نہایت حقیر سزا ہے آخرت کی سزا کے مقابلہ میں اور انہیں اسے اپنے لئے رحمت سمجھنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ایک روز