خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 719 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 719

خطبات محمود ۷۱۹ سال ۱۹۳۸ء مجلس لگی ہوئی تھی اور آپ اپنی وفات کے متعلق ہی ارشاد فرمارہے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ہر انسان جو اس دنیا میں کسی کو دکھ دیتا ہے اس کی سزا خدا تعالیٰ کے حضور پائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہوں اس لئے میری خواہش ہے کہ جسے مجھ سے کوئی تکلیف کی پہنچی ہو وہ اس کا بدلہ آج ہی مجھ سے لے لے۔اس بات کا صحابہ پر جو اثر ہوسکتا تھا وہ ظاہر ہے اور اس کا قیاس وہی کر سکتا ہے جسے کسی سے سچی محبت ہو۔یہ بات سن کر ان کو ایسا معلوم ہو ا جیسا کہ کسی نے ان کے سینوں میں خنجر گھونپ دیا ہو اور وہ بے تاب ہو کر رونے لگے لیکن ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! فلاں موقع پر آپ نے مجھے گہنی ماری تھی آپ جنگ کے لئے صفیں درست کی کر رہے تھے راستہ تنگ تھا اور گزرتے ہوئے آپ کی گھنی مجھے لگی تھی۔آپ نے فرمایا تم مجھے کہنی مارلو۔اس صحابی نے کہا کہ یا رَسُول اللہ ! میں اس وقت ننگے بدن تھا اور آپ نے کر نہ پہن رکھا تی ہے۔اس پر آپ نے اپنا گر نہ اٹھا دیا۔اس وقت صحابہ کی جو حالت ہوگی وہ ظاہر ہے ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اُدھر ہو تو اس شخص کو ٹکڑے کر دوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رُعب ایسا تھا کہ کسی کو بولنے کی جرات نہ تھی۔جب آپ نے گرتہ اوپر اٹھایا تو وہ صحابی آگے بڑھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر اس جگہ بوسہ دیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ اب ہم سے جُدا ہونے والے ہیں۔یہ آخری موقع تھا میں نے چاہا کہ اس سے فائدہ اٹھا کر آپ کے جسم کو چھو تو لوں لے پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخرت کی سزا سے ڈرتے ہیں تو پھر اور کون ہے جو یہاں کی سزا کو سخت کہہ سکے۔پس ہمیشہ سچ بولو اور اگر اس کے نتیجہ میں کوئی سزا بھی ملے وہ تمہارے لئے رحمت کا موجب ہوگی۔دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو سزا سے بچنے کے لئے رشوتیں دیتے ہیں۔آخر وہ بھی تو ایک سزا ہے کیونکہ اس کی میں بھی روپیہ جاتا ہے تو لوگ رشوتیں دے کر گورنمنٹ کی سزا سے بچنا چاہتے ہیں اور یہاں خدا تعالیٰ نے خود تمہارے لئے انتظام کر دیا ہے کہ دنیا میں قضاء مقرر کر دی تا تم آخرت کی سزا کی سے بچ جاؤ مگر تم اس سے بچنا چاہتے ہو حالانکہ رشوت کی نسبت یہ کتنا آسان علاج اور پھر طیب علاج ہے۔پس میں پھر ایک دفعہ آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ اپنی جانوں پر رحم کرو ، اولا دوں پر رحم کرو ، سلسلہ پر رحم کرو اور میں یہ تو نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ کے نبیوں پر رحم کر ولیکن یہ کہتا ہوں کہ