خطبات محمود (جلد 19) — Page 717
خطبات محمود 212 سال ۱۹۳۸ کہ اس مسئلہ کو معمولی نہ سمجھتے ہوئے اس پر غور کرو۔تحریک جدید کے چوتھے سال کے اختتام کے قریب میں پھر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہو اور اگر اپنے اندر طاقت محسوس نہیں کرتے تو سچائی سے کہہ دو کہ ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے اس سے دین کے کام کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن تم اپنی جان کو ضرور بچالو کی گے۔دین کے لئے خدا تعالیٰ کوئی اور رستہ کھول دے گا لیکن جب منہ سے وعدہ کر لو تو پھر خواہ کی کچھ ہوا سے پورا کرو اور اسے پورا کرنے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک قربان کرنے کی سے دریغ نہ کرو پھر دیکھو دنیا کا نقشہ کس طرح بدلتا ہے۔اسی طرح واقعات میں بھی سچائی اختیار کرو کیونکہ اس کے بغیر بھی دین کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔فرض کرو ایک شخص تبلیغ کے لئے باہر جانا چاہتا ہے۔اسے جب تک یقین نہ ہو کہ میرے محلہ والے اور میرے پڑوسی راست گو ہیں اسے ایک قسم کا خطرہ رہے گا کہ یہ لوگ میری اولاد کو بھی خراب کریں گے، یا جھوٹے کی مقدمات وغیرہ بنا کر ان کو پریشان کریں گے لیکن اگر وہ جانتا ہے کہ اس کے محلہ کا ہر شخص سچ بولنے والا ہے تو وہ ڈرے گا نہیں اسے خواہ تم دنیا کے کناروں تک بھیج دووہ بے خوف و خطر چلا جائے گا وہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہمسایوں سے محفوظ سمجھے گا۔اسے اطمینان ہوگا کہ اگر کوئی واقعہ ہو ا تو میرے بیوی بچے بھی مجھے اصل واقعات لکھ دیں گے اور مد مقابل بھی سچ سچ لکھ دے گا اور اس طرح وہاں بیٹھے ہوئے بھی اس کے سامنے قادیان کے حالات ایسے ہی روشن ہو نگے جیسے یہاں رہ کر ہو سکتے تھے اور وہ وہاں بیٹھے ہوئے بھی فیصلہ کر سکے گا اور اگر اس کے بیوی بچوں کی کی غلطی ہو گی تو ان کو لکھ دے گا کہ تمہاری غلطی ہے۔تو دنیا میں شہادتوں کے وقت سچ بولنا ہمسایوں کو طاقت اور اہلِ محلہ کو برکت دیتا ہے اور دین کے معاملہ میں سچ بولنا انتظام کو وسیع اور مضبوط کرتا ہے۔پس یہ گر ایک دفعہ اختیار کر لو اور دوسروں کو اختیار کرنے میں مدد دو یعنی وعدہ کرو کہ اپنے محلہ میں اور ارد گرد رہنے والوں کو جھوٹ نہیں بولنے دو گے اور فیصلہ کر لو کہ خواہ انجام کچھ ہو جھوٹا آدمی کوئی بھی اس جماعت میں نہ رہنے دیں گے۔تو اس طرح خواہ آدھے لوگوں کو بھی نکالنا پڑے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔جھوٹا آدمی اگر ایک بھی ہے تو وہ سخت خطرناک ہے مگر اس وقت تو بہت سے ہیں، کئی ہیں جو دوست کی خاطر جھوٹ بول دیتے ہیں حالانکہ یہ