خطبات محمود (جلد 19) — Page 693
خطبات محمود ۶۹۳ سال ۱۹۳۸ ہماری جماعت میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو عقائد بھی پوری طرح اپنی اولا دکو نہیں سکھاتے اور جب انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ اُن کے عقائد کیا ہیں تو انہوں نے دنیا میں کرنا کیا ہے؟ اس میں کوئی طبہ نہیں کہ عقیدہ خود اپنی ذات میں کوئی بڑی چیز نہیں مگر کم سے کم وہ ایک چھوٹا سہارا ضرور ہے اور ایمان کے حصول کا پہلا زینہ ہے تو دینی معاملات میں ترقیات ان ذرائع کو اختیار کئے بغیر نہیں ہوسکتیں جو اللہ تعالیٰ نے دینی ترقی کے لئے ضروری قرار دیئے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت نے پورے طور پر اس نقطہ کو نہیں سمجھا۔حالانکہ جب تک ہماری جماعت پورے طور پر اس امر پر قائم نہیں ہو جاتی کہ چاہے کچھ ہو جائے ہم نے جھوٹ نہیں بولنا ، ہم نے دھوکا اور فریب سے کام نہیں لینا۔ہم نے کامل طور پر خدا تعالیٰ پر توکل کرنا اور اسی کے احکام کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا ہے اس وقت تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔میں کئی سال کی سے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت میں بعض لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ بولتے یا بلواتے ہیں۔اگر ہماری جماعت جھوٹ کو ہی کلیہ چھوڑ دے تو یہ ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی تبلیغ ہو کہ دشمن سے دشمن بھی ہمارے اخلاق کی فوقیت کو تسلیم کئے بغیر نہ رہے۔اسی طرح فریب، دغا، منافقت یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو قوم کو لوگوں کی نظروں میں گرا دیتی ہیں لیکن اگر ہم قربانی اور ایثار سے کام لیں اور ہمارے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے ہوں تو یقیناً ہماری جماعت کی عظمت تمام لوگوں کے دلوں میں قائم ہو جائے کیونکہ سچی قربانی اور نیک اخلاق ہی ہیں جو کسی قوم کی عظمت کو دُنیا میں قائم کیا کرتے ہیں۔ورنہ خالی منظم ہونا اور ایک جماعت میں شامل ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔یہ تو دُنیا دار انجمنوں میں بھی ہوتا ہے۔وہ بھی منتظم ہوتی ہیں اور وہ بھی ایک جماعتی رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔پس روحانی سلسلہ کے قیام کی اصل غرض تنظیم نہیں ہوتی بلکہ اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ اس جماعت کے افراد سلسلہ کی تعلیم کے زیر اثر جھوٹ سے بچیں، فریب سے کام نہ لیں ، دعا اور منافرت کو چھوڑ دیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، اسی پر توکل کریں ، اس کے احکام کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں اگر یہ باتیں لوگوں میں پیدا نہیں ہوتیں تو محض تنظیم اور نظام اور خلافت پر ایمان انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور نہ اس تنظیم کا وہ روحانی نتیجہ نکل سکتا ہے جو