خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 692 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 692

خطبات محمود ۶۹۲ سال ۱۹۳۸ء موجود ہے اور جب مجھے یہ یقین حاصل ہو گیا کہ وہ موجود ہے تو میں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی خدا کے رسول ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ ان کی اتباع کئے بغیر کوئی شخص نجات حاصل کر سکے اور کی جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر مجھے یقین پیدا ہوا تو میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بچے ہیں اور یقیناً ہمارا سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔تب اس فیصلہ کے بعد گیارہ ساڑھے گیارہ بجے میں اپنے بستر پر لیٹا۔تو ایمان انسان کو خود حاصل کرنا می پڑتا ہے مگر عقیدہ انسان کو ورثہ میں بھی مل جاتا ہے لیکن عقیدہ نفع نہیں دیتا۔اگر دیتا ہے تو ایمان ہی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کے جو لوگ اپنے بچوں کے اندر ایمان پیدا نہیں کرتے محض عقا ئد سکھا دینے پر اکتفا کرتے ہیں ان کی نسلوں میں سے دین آخر مٹ جاتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں چونکہ ان کو یہ رٹا دیا گیا ہے کہ خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔اس لئے دین ان کی کے اندر داخل ہو گیا۔حالانکہ یہ عقیدہ ہے جو وہ انہیں سکھاتے ہیں ایمان تب ہی پیدا ہو سکتا ہے جب وہ خود غور کریں اور اپنے طور پر فیصلہ کریں کہ واقع میں یہ باتیں صحیح ہیں۔کئی لوگ میرے جی پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے اپنی اولا د خدمت دین کے لئے وقف کر دی ہے۔میں انہیں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ جَزَاكُمُ الله آپ کو اس کا ثواب ہو گیا مگر اپنے آپ کو وقف کرنا بیٹے کا کی کام ہے باپ کا نہیں۔باپ اگر کہہ بھی دے کہ میں اپنے بیٹے کی زندگی وقف کرتا ہوں مگر بیٹا یہ کہے کہ میں دُنیا کماؤں گا تو ہم ایسے وقف سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور اگر ایسے شخص کو زبر دستی دین کے کام پر لگایا بھی جائے گا تو دین میں رخنہ پیدا ہونے کے سوا اور کیا ہوگا۔تو اگر کوئی شخص کی اپنے بچہ کے متعلق یہ کہے کہ میں اسے وقف کرتا ہوں تو میں اسے یہی کہا کرتا ہوں کہ جَزَاک اللہ مگر وقف کا زمانہ اس کا اسی وقت سے شروع ہو گا جب یہ خود جوان ہو کر کہے گا کہ میں اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کرتا ہوں۔تو ایمان اور ذاتی طور پر کسب کئے ہوئے یقین کے بغیر دُنیا میں کبھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ رسمی طور پر جو باتیں عقائد میں شامل ہوتی ہیں وہ انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا کرتیں۔پس ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر ایمان پیدا کرے اور ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھے کہ اس نے اپنی اولادوں کے اندر یقین اور وثوق پیدا کرنا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کی