خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 694 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 694

خطبات محمود ۶۹۴ سال ۱۹۳۸ء نماز ، روزہ اور دوسرے احکام شرعیہ کا روحانی نتیجہ ہے۔روحانی نتیجہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب نظام کو خادم سمجھا جائے۔دُنیا اور دین میں یہی فرق ہے کہ دُنیا کے لوگ نظام کو اصل چیز قرار دیتے ہیں اور دیندار لوگ نظام کو اصل چیز کے حصول کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔چونکہ دُنیا خالص نظام سے مل جاتی ہے اس لئے نظام ان کی نظروں میں بہت بھاری ہوتا ہے اور اس کی وقعت ان کے دلوں پر غالب ہوتی ہے لیکن روحانی انعامات محض نظام کی وجہ سے حاصل نہیں ہو سکتے بلکہ ان انعامات کے حصول کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اُن روحانی ہتھیاروں کو استعمال کرے جو خدا تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔میں جماعت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اب وہ زمانہ آ گیا ہے جب اسے اپنی نیند چھوڑ دینی چاہئے اور غفلت اور سستی کو ترک کر کے پوری ہوشیاری اور بیداری سے کام کرنا چاہئے کیونکہ دُنیا میں پھر تباہی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔لوگ پھر لڑنے کے لئے آمادہ ہو رہے ہیں۔حکومتیں پھر جنگوں کے میدان میں گودنے کے لئے تیار ہو رہی ہیں اور ہم جن کے لئے خدا تعالیٰ یہ تمام میدان صاف کر رہا ہے اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کر رہے۔اگر دُنیا میں اب دوبارہ کوئی جنگ چھڑ گئی تو اس کے نتائج بنی نوع انسان کے لئے نہایت ہی خطرناک ہوں گے۔تباہی کے سامان جو آج پیدا ہیں پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئے۔بیشک آج کل بھی بعض جنگیں ہو رہی ہیں اور لوگ ان پر قیاس کرتے ہوئے مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ ان جنگوں سے تو کوئی زیادہ تباہی کی نہیں ہوتی لیکن زیادہ تباہی نہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ابھی تک حکومتیں اپنے سامانِ حرب کو چھپائے ہوئے ہیں۔اگر آج وہ اپنے تمام سامانوں کو ظاہر کر دیں تو ان کے دشمن اس کوشش میں لگ جائیں کہ ان کا کیا علاج ہے۔مثلاً اگر سپین کی جنگ میں ہی اٹلی اور جرمن والے اپنے تمام ہتھیار ظاہر کر دیتے تو دوسری قومیں یکدم سپین کے معاملہ میں دخل دے دیتیں اور کہتیں کہ اتناظلم مت کرو اور ان کے موجد اس بات میں مشغول ہو جاتے تاکہ ان ہتھیاروں کے مقابلہ میں انہیں کون سے ہتھیار تیار کرنے چاہئیں اور اس طرح اصل جنگ سے سال دو سال پہلے وہ ان کا توڑ تجویز کر لیتے یا مثلاً فرانسیسیوں نے تباہی کی جو جو چیزیں ایجاد کی ہوئی ہیں اگر وہ ی معمولی معمولی جنگوں میں ان کو ظاہر کر دیں تو دشمن ضرور ہوشیار ہو جائے اور وہ ان کا علاج