خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 546

خطبات محمود ۵۴۶ سال ۱۹۳۸ قرآن کریم کی شہادت یہ ہے کہ منافق ہمیشہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے چنانچہ فرماتا ت ب و مِنْهُمْ مِّن يَلْمِزُكَ في الصدقت : ١٣ کہ منافق ہمیشہ صدقات کے بارے میں اعتراضات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی تقسیم درست نہیں ہوتی۔تو اگر محض اعتراض کرنے سے بات بن سکتی ہے اور کسی ثبوت کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تو میں کہتا ہوں کہ مجھے پر ہی یہ اعتراض نہیں پڑتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑتا ہے۔حضرت خلیفہ المسح الا ول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں لا ہور گیا۔اس وقت تک ابھی نمازیں علیحدہ نہیں ہوئی تھیں آپ فرماتے ہیں ایک مسجد میں بیٹھا وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آگئے اور بڑے غصہ سے کہنے لگے تم لوگ دینِ اسلام سے مرتد ہو تم کہتے ہو قرآن کریم میں کوئی آیت منسوخ نہیں اور اس کی ہر آیت قابل عمل ہے یہ کیسا بیہودہ اور خلاف قرآن عقیدہ ہے۔آپ فرماتے میں چپکے سے سنتا جاؤں مگر وہ برابر گالیاں دیتا چلا گیا اور کی کہنے لگا تم بڑے بے دین کا فر اور مرتد ہو۔پھر کہنے لگا۔دیکھو سرسید جو نیچری خیالات کا تھا اس کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ قرآن میں کوئی آیت منسوخ نہیں۔فرماتے تھے اس پر میں نے ہنس کر کہا چلو ہم دو ہو گئے۔پھر کچھ دیر وہ گالیاں دیتا رہا اور آخر میں کہنے لگا ابو مسلم خراسانی کو جانتے ہو وہ کی بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔میں نے کہا بہت اچھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھی یہی عقیدہ تھا خیر تو پہلے ہم دو تھے اب تین ہو گئے ہیں۔میں بھی کہتا ہوں کہ ہم بھی تین ہو گئے پہلے مجھ پر اعتراض ہوا ، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض ہوا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض ہو گیا لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر شرافت کا ایک شمہ بھی ان میں باقی ہے اور کوئی بھی تخم دیانت ان میں پایا جاتا ہے تو وہ ثبوت پیش کریں۔وہ ایک ایک سور و پیہ جو میں نے کھایا ہے ثابت کرتے چلے جائیں اور میں چار چار ، پانچ پانچ سو کی جائداد ان کو اس جرمانہ میں دیتا چلا جاؤں گا۔بعض کہتے ہیں تمہارے پاس روپیہ تو ہے مگر وہ تم نے بنکوں میں رکھوا دیا ہوا ہے۔احرار نے بھی ایک دفعہ اعتراض کیا تھا کہ ولایت کے بنکوں میں تین لاکھ روپیہ ان کا جمع ہے۔