خطبات محمود (جلد 19) — Page 547
خطبات محمود ۵۴۷ سال ۱۹۳۸ء میں نے اُس وقت انہیں جواب دیا تھا کہ تم جو اپنے گزارہ کے لئے لوگوں سے چندے جمع کرتے رہتے ہو ، اب اس اعتراض کے بعد تمہیں وہ چندے جمع کرنے کی ضرورت نہیں تم ثابت کر دو کہ فلاں بنک میں میرا تین لاکھ روپیہ جمع ہے میں فوراً چیک تمہارے نام بھجوا دوں گا تم تم وہاں سے روپیہ نکلوا لینا۔باقی ہماری زمینیں ہیں اور میں لوگوں سے قرضہ بھی لیا کرتا ہوں، بعض زمینیں میں نے خریدی بھی ہیں مگر اسی طرح کہ بعض مکان گرور کھ کر یا بعض دوستوں سے قرض لے کر۔اگر اللہ تعالیٰ کی میری ان زمینوں میں برکت ڈال دے تو یہ اس کا فضل ہوگا مگر اس میں کسی کا کیا دخل ہے۔دنیا کا یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے حساب مانگے اور یقیناً جماعت کا حق ہے کہ وہ ایک ایک پیسے کا مجھ سے حساب لے۔وہ مجھ سے پوچھ سکتی ہے کہ یہ مکان تم نے کہاں سے روپیہ لے کر بنوایا ، یہ کپڑا تم نے کہاں سے خریدا ، یہ جائداد تم نے کس طرح بنائی۔یقیناً یہ سلسلہ کا حق ہے اور میں ہر وقت حساب دینے کے لئے تیار ہوں۔وہ دوست موجود ہیں جن سے میں نے قرض لئے ، وہ تحریر میں کی موجود ہیں جو اس ضمن میں لکھی گئی ہیں سندھ میں جو زمین حکومت سے خریدی گئی۔اس میں بھی کچ پہلا حق میں نے جماعت کو ہی دیا تھا۔چنانچہ ” الفضل‘ کے فائل اور ہماری چٹھیاں گواہ ہیں کہ جب سندھ میں زمینیں ملنے لگیں تو ہم نے دوستوں کو توجہ دلائی کہ وہ انہیں خرید لیں مگر انہوں نے سمجھا جس طرح سٹور میں ہمارا روپیہ برباد ہوا تھا اس طرح یہاں بھی برباد ہو جائے گا۔اور جب انہوں نے کوئی توجہ نہ کی تو چونکہ ہم سودا کر چکے تھے اس لئے یہ زمین زیادہ تر انجمن نے لے لی اور باقی مختلف دوستوں کے ذمہ لگائی گئی۔مگر جب فائدے کی امید نظر نہیں آتی تھی اس وقت تو ہمیں کہا گیا کہ ہمیں دھوکا دیا جاتا اور ہمارے روپیہ کو برباد کیا جاتا ہے اور جب یہ نظر آیا کہ اس زمین میں شاید نفع آنے لگ جائے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ سلسلہ کا روپیہ کھا گئے ہیں۔ہم کہتے ہیں ان زمینوں پر سلسلہ کا جس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے وہ ہم سے لے لو۔اس سے ڈگنے داموں کی زمین ہم سے لے لو، چار گھنے کی زمین لے لو، پانچ گنے کی زمین لے لو، ( کیونکہ نقد ہمارے پاس بالکل نہیں ہے ) یقیناً جو شخص سلسلہ کا روپیہ کھا تا ہے وہ اس بات کا سزا وار نہیں کہ اس سے وہ روپیہ واپس لیا جائے بلکہ اس بات کا بھی مستحق ہے کہ اس پر بڑا بھاری جرمانہ کیا جائے۔